سے سخت انکاری ہوئے اور بالاتفاق کہا کہ یہ دعویٰ اس مسلسل تعلیم کے برخلاف ہے کہ جو توریت اور دوسری کتابوں سے خدا کے نبیوں کی معرفت چودہ سو برس سے آج تک ہمیں ملتی رہی ہے۔ سو عیسائی عقیدہ کے بطلان کے لئے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوگی کہ وہ جس تعلیم کو سچی اور منجانب اللہ سمجھتے ہیں وہی تعلیم ان کے جدید عقیدہ کی مکذّب ہے۔ اور ان کے اس عقیدہ سے ایسی کھلی کھلی مخالف ہے کہ کبھی کسی یہودی کو یہ شک بھی نہیں گذرا کہ اس تعلیم میں تثلیث بھی داخل ہے۔ ہاں عیسائی لوگ پیشگوئیوں کی طرف ہاتھ پیر مارتے ہیں مگر یہ خیال نہایت ہنسی کی بات اور قابل شرم ہے کیونکہ جن نبیوں کی یہ موحدانہ تعلیم تھی جو مسلسل طور پر یہودیوں کے ہاتھوں میں چلی آئی کیونکر ممکن تھا کہ ایسے انبیاء علیہم السلام اپنی تعلیم کے مخالف پیشگوئیاں بیان کرتے اور اپنی تعلیم اور پیشگوئیوں میں ایسا تناقض ڈال دیتے کہ تعلیم کا تو کچھ اور منشا اور پیشگوئیوں کا کچھ اور ہی منشا ہو جاتا۔ اور اس جگہ عقلمند کے لئے یہ ایک نکتہ نہایت ہدایت بخش ہے کہ پیشگوئیوں میں استعارات اور مجازات بھی ہوتے ہیں مگر تعلیم کے لئے تصریح اور تفصیل ضروری ہوتی ہے اس لئے جہاں کہیں تعلیم اور پیشگوئی کا تناقض معلوم ہو تو یہ لازم ہوتا ہے کہ تعلیم کو مقدم رکھا جائے۔ اور پیشگوئی کو اگر اس کے مخالف ہو ظاہر الفاظ سے پھیر کر تعلیم کے مطابق اور موافق کر دیا جائے تا رفع تناقض ہو۔ بہرحال تعلیمی مضمون کا لحاظ مقدم چاہیے۔ کیونکہ تعلیم علاوہ تصریح اور تفصیل کے اکثر معرض افادۂ استفادہ میں آتی رہتی ہے۔ لہٰذا اس کے مقاصد اور مدعا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے برخلاف پیشگوئیوں کے کہ وہ اکثر گوشۂ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں پس اس محکم اصول کے رو سے یہودی لوگ عیسائیوں کے مقابل پر اس بحث میں بالکل سچے ہیں کیونکہ یہودیوں نے تعلیم کو پیشگوئیوں پر مقدم رکھا اورؔ پیشگوئیوں کے وہ معنے کئے جو تعلیم کے مخالف نہ ہوں۔ مگر عیسائیوں نے پیشگوئیوں کے وہ معنے کئے ہیں جو تعلیم کے سراسر مخالف ہیں۔ ماسوا اس کے یہودیوں کے معنے اس طرح