بار بار قرآن اور احادیث سے دکھلایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔ پھر عقلی طور پر ان کو شرم دلائی گئی کہ یہ عقیدہ تمہارا عقل کے بھی سراسر مخالف ہے۔ تمہارے ہاتھ میں اس بات کی کوئی نظیر نہیں کہ اس سے پہلے کوئی آسمان سے بھی اترا ہے۔ پھر آسمانی نشان متواتر ان کو دکھلائے گئے اور خدا کی حجت ان پر پوری ہوئی لیکن تعصب ایسی بلا ہے کہ یہ لوگ اب تک اس فاسد عقیدہ کو نہیں چھوڑتے۔ ایسا ہی پادری صاحبان بھی ان تینوں طریقوں کے ذریعہ سے ہمارے ملزم ہیں۔ مگر پھر بھی اپنے بے اصل عقائد کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور نہایت نکمّے اور بے جان خیالات پر گرے جاتے ہیں۔ اور وسائل ثلاثہ مذکورہ کے رو سے وہ اس طرح ملزم ٹھہرتے ہیں کہ اگر مثلاً ان کے اُس جسمانی اور محدود خدا کا جس کا نام وہ یسوع رکھتے ہیں پہلی تعلیموں سے پتہ تلاش کیا جائے یا یہودیوں کے اظہار لئے جائیں تو ایک ذرہ سی بھی ایسی تعلیم نہیں ملے گی جس نے ایسے خدا کا نقشہ کھینچ کر دکھلایا ہو۔ اگر یہودیوں کو یہ تعلیم دی جاتی تو ممکن نہ تھا کہ ان کے تمام فرقے اس ضروری تعلیم کو جو ان کی نجات کا مدار تھی فراموش کر دیتے اور کوئی ایک آدھ فرقہ بھی اس تعلیم پر قائم نہ رہتا کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک ایسا عظیم الشان گروہ جس میں ہر زؔ مانہ میں ہزارہا عالم فاضل موجودرہے ہیں اور جن کے ساتھ ساتھ صدہا نبی ہوتے چلے آئے ہیں ایک ایسی تعلیم سے ان کو بے خبری ہو جو چودہ سو برس سے برابر ان کو ملتی رہی اور لاکھوں افراد ان کے ہر صدی میں اس تعلیم میں نشوونما پاتے رہے۔ اور ہر صدی کے پیغمبر کی معرفت وہ تعلیم نازل ہوتی رہی اور ہر ایک فرقہ ان کا اس تعلیم کا پابند رہا اور ان کے رگ و ریشہ میں وہ تعلیم گُھس گئی۔ اور ایسا ہی صدی بعد صدی ان کے نبی نہایت اہتمام سے اس تعلیم کی تاکید کرتے چلے آئے۔ یہاں تک کہ اس صدی تک نوبت پہنچ گئی جس میں ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور وہ لوگ سب کے سب اس دعویٰ