ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی راہ یا یوں کہو کہ ہدایت کے اسباب اور وسائل تین ہیں۔ یعنی ایک یہ کہ کوئی گم گشتہ محض خدا کی کتاب کے ذریعہ سے ہدایت یاب ہو جائے۔ اور دوسرے یہ کہ اگر خداتعالیٰ کی کتاب سے اچھی طرح سمجھ نہ سکے تو عقلی شہادتوں کی روشنی اس کو راہ دکھلادے۔ اور تیسرے یہ کہ اگر عقلی شہادتوں سے بھی مطمئن نہ ہو سکے تو آسمانی نشان اس کو اطمینان بخشیں۔ یہ تین طریق ہیں جو بندوں کے مطمئن کرنے کے لئے قدیم سے عادۃ اللہ میں داخل ہیں یعنی ایک سلسلہ کتب ایمانیہ جو سماع اور نقل کے رنگ میں عام لوگوں تک پہنچتا ہے جن کی خبروں اور ہدایتوں پر ایمان لانا ہر ایک مومن کا فرض ہے اور ان کا مخزن اتم اور اکمل قرآن شریف ہے۔ دوسرا سلسلہ معقولات کا جس کا منبع اور ماخذ دلائل عقلیہ ہیں۔ تیسرا سلسلہ آسمانی نشانوں کا جس کا سرچشمہ نبیوں کے بعد ہمیشہ امام الزّمان اور مجدّد الوقت ہوتا ہے۔ اصل وارث ان نشانوں کےؔ انبیاء علیہم السلام ہیں۔ پھر جب ان کے معجزات اور نشان مدت مدید کے بعد منقول کے رنگ میں ہوکر ضعیف التاثیر ہو جاتے ہیں تو خداتعالیٰ ان کے قدم پر کسی اور کو پیدا کرتا ہے تا پیچھے آنے والوں کے لئے نبوت کے عجائب کرشمے بطور منقول ہوکر مُردہ اور بے اثر نہ ہو جائیں۔ بلکہ وہ لوگ بھی بذات خود نشانوں کو دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔ غرض خداتعالیٰ کے وجود اور راہ راست پر یقین لانے کے لئے یہی تین طریقے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان تمام شبہات سے نجات پاتا ہے۔ اگر خدا کی کتاب اور اس کے مندرجہ معجزات اور نشان اور ہدایتیں جو اس زمانہ کے عام لوگوں کی نظر میں بطور منقول کے ہیں کسی پر مشتبہ رہیں تو ہزاروں عقلی دلائل ان کی تائید میں کھڑے ہوتے ہیں اور اگر عقلی دلائل بھی کسی سادہ لوح پر مشتبہ رہیں تو پھر ڈھونڈنے والوں کے لئے آسمانی نشان بھی موجود ہیں لیکن بڑے بدقسمت وہ لوگ ہیں کہ جو باوجود ان تینوں راہوں کے کھلے ہونے کے پھر بھی ہدایت پانے سے بے نصیب رہتے ہیں۔ اور درحقیقت ہمارے اندرونی اور بیرونی مخالف اسی قسم کے ہیں۔ مثلاً اس زمانہ کے مولویوں کو