ان کے دل کو حق کی مناسبت سے دور ڈال دیا اور آخر کو معاندانہ جوش کے اثروں سے ایک عجیب کایا پلٹ ان میں ظہور میں آئی اور ایسے بگڑے کہ گویا وہ وہ نہ رہے اور رفتہ رفتہ نفسانی مخالفت کے زہر نے ان کے انوار فطرت کو دبا لیا۔ سو ایسا ہی ہمارے اندرونی مخالفوں کا حال ہوا۔ مسیح کا بروز کے طور پر نازل ہونا جس کو تمام محقق مانتے چلے آئے ہیں یہ ایک ایسا مسئلہ نہ تھا جو کسی اہل علم کی سمجھ میں نہ آوے۔ بڑے بڑے اکابر اس کو مان چکے ہیں۔ یہاں تک کہ محی الدین ابن العربی صاحب بھی اپنی تفسیر میں صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’نزول مسیح اس طرح پر ہوگا کہ اس کی روح کسی اور بدن سے تعلق کرے گی یعنی اس کی خو اور طبیعت پر جو ایک روحانی امر ہے کوئی اور شخص پیدا ہوگا‘‘۔ سوؔ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو مدد دینے کے لئے طیار تھا اگر وہ مدد لینے کے لئے طیار ہوتے مگر وہ تو بخل اور تعصب سے بہت دور جا پڑے اور نہ چاہا کہ خداتعالیٰ ان کے دلوں کو منور کرے۔ ہاں میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کی اس ضد اور مخالفت میں بھی خداتعالیٰ کی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ جن روحانی امراض کو وہ اپنی مکاری سے پوشیدہ رکھتے تھے اور اس طرح پر خلقت کو بھی دھوکہ دیتے اور خود اپنے نفس سے بھی فریب کرتے تھے وہ تمام مرضیں ان پر ظاہر کی جائیں اور ریاکاری کے تمام پردے اٹھا دئیے جائیں۔ سو انہوں نے اپنی نفسانی آندھیوں اور تعصب کے طوفان کی سرگردانیوں سے صدق و ثبات کے پہاڑ سے ٹکر کھاکر اور تلوار کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ظاہر کر دیا کہ وہ اپنی فطرت کے رو سے کیسے مہلک زخموں کے لئے مستعد ہو رہے ہیں اور کس طرح کمینہ پن کے خیالات ان کو ہلاکت کی طرف کھینچ رہے ہیں اور ان پر روز کھلتا جاتا ہے کہ کس قدر وجود ان کا طرح طرح کے حسد اور بخل کا مجموعہ اور خودبینی اور تکبر کا سرچشمہ ہے۔ اس طرح پر قوی امید ہے کہ وہ ایک دن اپنے ان تمام حالات پر نظر ڈال کر متنبہ ہو جائیں گے اور آخر ان کو ایک روحانی آنکھ عطا ہوگی جس سے وہ خطرناک راہوں سے مجتنب ہو سکیں گے۔