سچا نہیں ہے مگر محمد حسین بٹالوی نے مارے تعصب اور بخل کے اس مقدمہ کو سچا قرار دیا اور اپنا نفسانی کینہ نکالنے کے لئے یہ ایک موقعہ سمجھا۔ اسی غرض سے وہ ایسے جھوٹے اور قابل شرم مقدمہ میں عیسائیوں کی مدد دینے کے لئے عدالت میں آیا۔ فَلْیَبْک علٰی تقواہ من کَاَن باکیا۔
لیکن بالطبع اس جگہ ایک سوال ہوتا ہے کہ ایسے مولوی جو مدتوں تک تقویٰ اور کفؔ لسان اور دیانت اور امانت کا لوگوں کو وعظ کرتے رہے کیونکر ان کو حق کے قبول کرنے کے لئے مدد نہ ملی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خداتعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان اپنے نفس پر آپ ظلم کرتا ہے۔ عادۃ اللہ یہ ہے کہ جب ایک فعل یا عمل انسان سے صادر ہوتا ہے تو جو کچھ اس میں اثر مخفی یا کوئی خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے خداتعالیٰ ضرور اس کو ظاہر کر دیتا ہے مثلاً جس وقت ہم کسی کوٹھڑی کے چاروں طرف سے دروازے بند کر دیں گے تو یہ ہمارا ایک فعل ہے جو ہم نے کیا اور خداتعالیٰ کی طرف سے اس پر اثر یہ مترتّب ہوگا کہ ہماری کوٹھڑی میں اندھیرا ہو جائے گا اور اندھیر اکرنا خداکا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانون قدرت میں مندرج ہے۔ ایسا ہی جب ہم ایک وزن کافی تک زہر کھالیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ ہمارا فعل ہوگا پھر بعد اس کے ہمیں مار دینا یہ خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانون قدرت میں مندرج ہے۔ غرض ہمارے فعل کے ساتھ ایک فعل خدا کا ضرور ہوتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا اور اس کا نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔ سو یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے ایسا ہی باطن سے بھی متعلق ہے۔ ہر ایک ہمارا نیک یا بد کام ضرور اپنے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ اور قرآن شریف میں جو 3 ۱ آیا ہے اس میں خدا کے مہر لگانے کے یہی معنی ہیں کہ جب انسان بدی کرتا ہے تو بدی کا نتیجہ اثر کے طور پر اس کے دل پر اور منہ پر خداتعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ 3 ۲ ۔یعنی جب کہ وہ حق سے پھر گئے تو خداتعالیٰ نے