تو خدا کے غضب کے صاعقہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کے تعلقات خداتعالیٰ سے بکلی ٹوٹ گئے اور جو کچھ ان کے بارے میں قرآن شریف میں لکھا گیا اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا 33۔۱؂ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ یہ لوگ خداتعالیٰ سے نصرت دین کیلئے مدد مانگا کرتے تھے اور ان کو الہام اور کشف ہوتا تھا اگرچہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی تھی خداتعالیٰ کی نظر سے گرگئے تھے لیکن جب عیسائی مذہب بوجہ مخلوق پرستی کے مرگیا اور اس میں حقیقت اور نورانیت نہ رہی تو اس وقت کے یہود اس گناہ سے بری ہوگئے کہ وہ عیسائی کیوں نہیں ہوتے تب ان میں دوبارہ نورانیت پیدا ہوئی اور اکثر ان میں سے صاحب الہام اور صاحب کشف پیدا ہونے لگے اور ان کے راہبوں میں اچھے اچھے حالات کے لوگ تھے اور وہ ہمیشہؔ اس بات کا الہام پاتے تھے کہ نبی آخر زمان اور امام دوران جلد پیدا ہوگا اور اسی وجہ سے بعض ربانی علماء خداتعالیٰ سے الہام پاکر ملک عرب میں آ رہے تھے اور ان کے بچہ بچہ کو خبر تھی کہ عنقریب آسمان سے ایک نیا سلسلہ قائم کیا جائے گا۔ یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ 33۲؂ ۔ یعنی اس نبی کو وہ ایسی صفائی سے پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بچوں کو۔ مگر جب کہ وہ نبی موعود اس پر خدا کا سلام ظاہر ہوگیا۔ تب خود بینی اور تعصب نے اکثر راہبوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے دل سیہ ہوگئے۔ مگر بعض سعادتمند مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام اچھا ہوا پس یہ ڈرنے کا مقام ہے اور سخت ڈرنے کا مقام ہے خداتعالیٰ کسی مومن کی بلعم کی طرح بدعاقبت نہ کرے۔ الٰہی تو اس امت کو فتنوں سے بچا اور یہودیوں کی نظریں ان سے دور رکھ۔ آمین ثم آمین۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح خداتعالیٰ نے قبائل اور قومیں اس غرض سے بنائیں کہ تا اس جسمانی تمدن کا ایک نظام قائم ہو اور بعض کے بعض سے رشتے اور تعلقات ہو کر ایک دوسرے کے ہمدرد اور معاون ہوجاویں۔ اسی غرض سے اس نے سلسلہ نبوت اور امامت قائم کیا ہے کہ تا امت محمدیہ میں روحانی تعلقات پیدا ہو جائیں اور بعض بعض کے شفیع ہوں۔ اب ایک ضروری سوال یہ ہے کہ امام الزمان کس کو کہتے ہیں اور اس کی علامات کیا ہیں اور اس کو دوسرے