سے دینی تفقہ کی استعداد رکھتا ہے اس کے تدبّر اور سوچنے کی قوت کو زیادہ کیا جاتا ہے اور جس کو عبادات کی طرف رغبت ہو اس کو تعبد اور پرستش میں لذت عطا کی جاتی ہے۔ اور جو شخص غیر قوموں کے ساتھ مباحثات کرتا ہے اس کو استدلال اور اتمام حجت کی طاقت بخشی جاتی ہے۔ اور یہ تمام باتیں درحقیقت اسی انتشار روحانیت کا نتیجہ ہوتا ہے جو امام الزمان کے ساتھ آسمان سے اترتی اور ہر ایک مستعد کے دل پر نازل ہوتی ہے۔ اور یہ ایک عام قانون اور سنت الٰہی ہے جو ہمیں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رہنمائی سے معلوم ہوا اور ذاتی تجارب نے اس کا مشاہدہ کرایا ہے مگر مسیح موعود کے زمانہ کو اس سے بھی بڑھ کر ایک خصوصیت ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نابالغؔ بچے نبوت کریں گے۔ اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔ اور یہ سب کچھ مسیح موعود کی روحانیت کا پرتوہ ہوگا۔ جیسا کہ دیوار پر آفتاب کا سایہ پڑتاہے تو دیوار منور ہو جاتی ہے۔ اور اگر چونہ اور قلعی سے سفید کی گئی ہو تو پھر تو اور بھی زیادہ چمکتی ہے۔ اور اگر اس میں آئینے نصب کئے گئے ہوں تو ان کی روشنی اس قدر بڑھتی ہے کہ آنکھ کو تاب نہیں رہتی۔ مگر دیوار دعویٰ نہیں کر سکتی کہ یہ سب کچھ ذاتی طور پر مجھ میں ہے۔ کیونکہ سورج کے غروب کے بعد پھر اس روشنی کا نام و نشان نہیں رہتا۔ پس ایسا ہی تمام الہامی انوار امام الزمان کے انوار کا انعکاس ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی قسمت کا پھیر نہ ہو اور خدا کی طرف سے کوئی ابتلا نہ ہو تو سعید انسان جلد اس دقیقہ کو سمجھ سکتا ہے اور خدانخواستہ اگر کوئی اس الٰہی راز کو نہ سمجھے اور امام الزمان کے ظہور کی خبر سن کر اس سے تعلق نہ پکڑے تو پھر اول ایسا شخص امام سے استغنا ظاہر کرتا ہے اور پھر استغنا سے اجنبیت پیدا ہوتی ہے اور پھر اجنبیت سے سوء ظن بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر سوء ظن سے عداوت پیدا ہوتی ہے اور پھر عداوت سے نعوذ باللہ سلب ایمان تک نوبت پہنچتی ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ہزاروں راہب ملہم اور اہل کشف تھے اور نبی آخر الزمان کے قرب ظہور کی بشارت سنایا کرتے تھے لیکن جب انہوں نے امام الزمان کو جو خاتم الانبیاء تھے قبول نہ کیا