ملہموں اور خواب بینوں اور اہل کشف پر ترجیح کیا ہے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام الزمان اس شخص کا نام ہے کہ جس شخص کی روحانی تربیت کا خداتعالیٰ متولی ہوکر اس کی فطرت میں ایک ایسی امامت کی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ سارے جہان کی معقولیوں اور فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کرلیتا ہے وہ ہر ایک قسم کے دقیق در دقیق اعتراضات کا خدا سے قوت پاکر ایسی عمدگی سے جواب دیتا ہے کہ آخر ماننا پڑتا ہے کہ اس کی فطرت دنیا کی اصلاح کا پورا سامان لے کر اس مسافر خانہ میں آئی ہے اس لئے اس کو کسی دشمن کے سامنے شرمندہ ہونا نہیں پڑتا۔ وہ روحانی طور پر محمدی فوجوں کا سپہ سالار ہوتا ہے اور خداتعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر دین کی دوبارہ فتح کرے اور وہ تمام لوگ جو اس کے جھنڈے کے نیچے آتے ہیں ان کو بھی اعلیٰ درجہ کے قویٰ ؔ بخشے جاتے ہیں اور وہ تمام شرائط جو اصلاح کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اور وہ تمام علوم جو اعتراضات کے اٹھانے اور اسلامی خوبیوں کے بیان کرنے کے لئے ضروری ہیں اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔ اور بایں ہمہ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو دنیا کے بے ادبوں اور بد زبانوں سے بھی مقابلہ پڑے گا۔ اس لئے اخلاقی قوت بھی اعلیٰ درجہ کی اس کو عطا کی جاتی ہے اور بنی نوع کی سچی ہمدردی اس کے دل میں ہوتی ہے اور اخلاقی قوت سے یہ مراد نہیں کہ ہر جگہ وہ خواہ نخواہ نرمی کرتا ہے کیونکہ یہ تو اخلاقی حکمت کے اصول کے برخلاف ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جس طرح تنگ ظرف آدمی دشمن اور بے ادب کی باتوں سے جل کر اور کباب ہو کر جلد مزاج میں تغیر پیدا کر لیتے ہیں اور ان کے چہرہ پر اس عذاب الیم کے جس کا نام غضب ہے نہایت مکروہ طور پر آثار ظاہر ہو جاتے ہیں اور طیش اور اشتعال کی باتیں بے اختیار اوربے محل منہ سے نکلتی چلی جاتی ہیں۔ یہ حالت اہل اخلاق میں نہیں ہوتی۔ ہاں وقت اورمحل کی مصلحت سے کبھی معالجہ کے طور پر سخت لفظ بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ لیکن اس استعمال کے وقت نہ ان کا دل جلتا نہ طیش کی صورت پیدا ہوتی ہے نہ منہ پر جھاگ آتی ہے ہاں کبھی بناوٹی غصّہ رعب دکھلانے کیلئے ظاہر کر دیتے ہیں اور دل آرام اور انبساط اور سرور میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اکثرسخت لفظ اپنے مخاطبین کے حق میں استعمال کئے ہیں جیسا کہ سور ،کتے ،بے ایمان، بدکار وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہم نہیں کہہ سکتے