اور غلام اپنے تئیں قرار دیا۔ اس لئے خدا کے فضل نے ان کو نائب امامتِ حقہ بنا دیا۔ اور اویس قرنی کو بھی الہام ہوتا تھا اس نے ایسی مسکینی اختیار کی کہ آفتاب نبوت اور امامت کے سامنے آنا بھی سوء ادب خیال کیا۔ سیدنا حضرت محمد* مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بارہا یمن کی طرف منہ کر کے فرمایا کرتے تھے کہ اَجِدُ رِیْحَ الرَّحْمٰنِ مِنْ قِبَلِ الْیَمَن۔ یعنی مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اویس میں خدا کا نور اترا ہے۔ مگر افسوس کہ اس زمانہ میں اکثر لوگ امامت حقّہ کی ضرورت کو نہیں سمجھتے اور ایک سچّی خواب آنے سے یا چند الہامی فقروں سے خیال کرلیتے ہیں کہ ہمیں امام الزمان کی حاجت نہیں کیا ہم کچھ کم ہیں؟ اور یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ ایسا خیالؔ سراسر معصیت ہے کیونکہ جب کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امام الزمان کی ضرورت ہر ایک صدی کیلئے قائم کی ہے اور صاف فرما دیا ہے کہ جو شخص اس حالت میں خداتعالیٰ کی طرف آئے گا کہ اس نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ اندھا آئے گا اور جاہلیت کی موت پر مرے گا۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ملہم یاخواب بین کا استثناء نہیں کیا جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ملہم ہو یا خواب بین ہو اگر وہ امام الزمان کے سلسلہ میں داخل نہیں ہے تو اس کا خاتمہ خطرناک ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اس حدیث کے مخاطب تمام مومن اور مسلمان ہیں اور ان میں ہر ایک زمانہ میں ہزاروں خواب بین اور ملہم بھی ہوتے آئے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ امّت محمدیہ میں کئی کروڑ ایسے بندے ہوں گے جن کو الہام ہوتا ہوگا۔ پھر ماسوا اس کے حدیث اور قرآن سے یہ ثابت ہے کہ امام الزمان کے وقت میں اگر کسی کو کوئی سچی خواب یا الہام ہوتا ہے تو وہ درحقیقت امام الزمان کے نور کا ہی پرتوہ ہوتا ہے جو مستعد دلوں پر پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب دنیا میں کوئی امام الزمان آتا ہے تو ہزارہا انوار اس کے ساتھ آتے ہیں اور آسمان میں ایک صورت انبساطی پیدا ہو جاتی ہے اور انتشار روحانیت اور نورانیت ہوکر نیک استعدادیں جاگ اٹھتی ہیں پس جو شخص الہام کی استعداد رکھتا ہے اس کو سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے اور جو شخص فکر اور غور کے ذریعہ * ایڈیشن اول میں محمد کا لفظ کاتب سے سہواً رہ گیا ہے۔ ناشر