متقی امام ہے تو پھر تمام مومن متقی امام ہی ہوئے اور یہ امر منشاء آیت کے برخلاف ہے اور ایسا ہی بموجب نص قرآن کریم کے ہر ایک ملہم اور صاحب رؤیا صادقہ امام نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ قرآن کریم میں عام مومنین کے لئے یہ بشارت ہے کہ 3۔۱ یعنی دنیا کی زندگی میں مومنین کو یہ نعمت ملے گی کہ اکثر سچی خوابیں انہیں آیا کریں گی یا سچے الہام ان کو ہوا کریں گے۔ پھر قرآن شریف میں ایک دوسرے مقام میں ہے۔33 ۔۲ یعنی جو لوگؔ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر استقامت اختیار کرتے ہیں فرشتے ان کو بشارت کے الہامات سناتے رہتے ہیں اور ان کو تسلی دیتے رہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو بذریعہ الہام تسلی دی گئی۔ لیکن قرآن ظاہر کر رہا ہے کہ اس قسم کے الہامات یا خوابیں عام مومنوں کے لئے ایک روحانی نعمت ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ہوں اور ان الہامات کے پانے سے وہ لوگ امام وقت سے مستغنی نہیں ہو سکتے اور اکثر یہ الہامات ان کے ذاتیات کے متعلق ہوتے ہیں اور علوم کا افاضہ ان کے ذریعہ سے نہیں ہوتا اور نہ کسی عظیم الشان تحدّی کے لائق ہوتے ہیں اور بہت سے بھروسے کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بعض وقت ٹھوکر کھانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔ اور جب تک امام کی دستگیری افاضہ علوم نہ کرے تب تک ہرگزہرگزخطرات سے امن نہیں ہوتا۔ اس امر کی شہادت صدراسلام میں ہی موجود ہے۔ کیونکہ ایک شخص جو قرآن شریف کا کاتب تھااس کو بسا اوقات نور نبوت کے قرب کی وجہ سے قرآنی آیت کا اس وقت میں الہام ہو جاتا تھا جبکہ امام یعنی نبی علیہ السلام وہ آیت لکھوانا چاہتے تھے۔ ایک دن اس نے خیال کیا کہ مجھ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا فرق ہے۔ مجھے بھی الہام ہوتا ہے۔ اس خیال سے وہ ہلاک کیا گیا۔ اور لکھا ہے کہ قبر نے بھی اس کو باہر پھینک دیا۔ جیسا کہ بلعم ہلاک کیا گیا۔ مگر عمر رضی اللہ عنہ کو بھی الہام ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھا۔ اور امامتِ حقہ جو آسمان کے خدا نے زمین پر قائم کی تھی اس کا شریک بننا نہ چاہا۔ بلکہ ادنیٰ چاکر