ضَرُوْرَۃُ الامَام
3
الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی
اما بعد واضح ہو کہ حدیث صحیح*سے ثابت ہے کہ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کرے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے۔ یہ حدیث ایک متقی کے دل کو امام الوقت کا طالب بنانے کے لئے کافی ہو سکتی ہے کیونکہ جاہلیت کی موت ایک ایسی جامع شقاوت ہے جس سے کوئی بدی اور بدبختی باہر نہیں۔ سو بموجب اس نبوی وصیت کے ضروری ہوا کہ ہر ایک حق کا طالب امام صادق کی تلاش میں لگا رہے۔
یہ صحیح نہیں ہے کہ ہر ایک شخص جس کو کوئی خواب سچی آوے یا الہام کا دروازہ اس پر کھلا ہو وہ اس نام سے موسوم ہو سکتا ہے بلکہ امام کی حقیقت کوئی اور امر جامع اور حالت کاملہ تامہ ہے جس کی وجہ سے آسمان پر اس کا نام امام ہے؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ صرف تقویٰ اور طہارت کی وجہ سے کوئی شخص امام نہیں کہلا سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 ۱ پس اگر ہر ایک
* حدثنا عبداللّٰہ حدثنا ابی حدثنا اسود بن عامر اناابوبکر عن عاصم عن ابی صالح عن معاویۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من مات بغیر امام مات میتۃ جاھلیۃ صفحہ نمبر۹۶ جلدنمبر۴ مسند احمد و اخرجہ احمد والترمذی و ابن خزیمۃ و ابن حبان و صححہ من حدیث الحارث الاشعری بلفظ من مات ولیس علیہ امام جماعۃ فان موتتہ موتۃ جاھلیۃ۔ ورواہ الحاکم من حدیث بن عمرو من حدیث معاویۃ و رواہ البزّار من حدیث ابن عباس۔