یہ فتنہ ایک جھوٹے اور مصنوعی مقدمہ کا جو میرے پر برپا کیا گیا خداتعالیٰ نے کئی مہینے پہلے اس کی اطلاع مجھے دی تھی اور نہ ایک دفعہ بلکہ ۲۹؍جولائی ۱۸۹۷ ؁ء تک متواتر الہامات اس بارے میں کئے گئے کہ ایک ابتلا اور مقدمہ اور بازپرس حکام کی طرف سے ہوگی اور ایک الزام لگایا جائے گا۔ اور آخر خدا اس جھوٹے الزام سے بری کرے گا۔ اور پھر حاضری کے بعد ۲۲؍اگست ۱۸۹۷ ؁ء تک اطمینان اور تسلی دہی کے الہام ہوتے رہے یہاں تک کہ ۲۳؍اگست ۱۸۹۷ ؁ء کو خدا تعالیٰ نے بری کر دیا۔ یہ تمام الہامات قریباً اپنی جماعت کے سو ۱۰۰ آدمیوں کو قبل از وقت سنائے گئے تھے جن میں اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی۔ اور اخویم خواجہ کمال الدین صاحب بی اے اور اخویم میاں محمد علی صاحب ایم اے اور اخویم حکیم فضل الدین صاحب اور اخویم سید حامد شاہ صاحب اور اخویم خلیفہ نور دین صاحب جموں اور اخویم مرزا خدا بخش صاحب وغیرہ احباب داخل ہیں اور ہر ایک حلفاًبیان کر سکتا ہے کہ یہ الہامات پیشگوئی کے طور پر ان کو سنائے گئے تھے۔ پس اس مقدمہ کا ہماری جماعت کو یہ فائدہ پہنچا کہ اس کے طفیل انہوں نے کئی نشان دیکھ لئے۔ ایک تو یہی نشان کہ خداتعالیٰ نے قبل از مقدمہ مقدمہ کی خبر اور نیز انجام کار بری ہونے کی خبر دی۔ اور دوسرا یہ نشان کہ جو پہلے چھپے ہوئے الہام میں یہ فقرہ تھا کہ اِنّی مُھینٌ من اَراد اِھانتک اس کی تصدیق دیکھ لی۔ اور تیسرا یہ نشان کہ مخالفوں نے تو مجھ پر الزام لگانا چاہا تھا پر خداتعالیٰ نے حکام کی نظر میں انہیں کو ملزم کر دیا۔ اور چوتھا یہ نشان کہ محمد حسین نے مجھے ذلّت کی حالت میں دیکھنا چاہا تھا خداتعالیٰ نے یہ ذلّت اسی پر ڈال دی اور اس کے شر سے مجھے بچالیا۔ یہ خدا کی تائید ہے چاہیے کہ ہماری جماعت اس کو یاد رکھے۔ اور ایک بڑی الٰہی حکمت اس مقدمہ کے دائر ہونے میں یہ تھی کہ تا خدا تعالیٰ اس طور سے بھی میری مماثلت حضرتؔ مسیح سے ثابت کرے اور میری سوانح کی اس کی سوانح