سے مشابہت لوگوں پر ظاہر فرمادے۔ چنانچہ وہ تمام مماثلتیں اس مقدمہ سے ثابت ہوئیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے ان کے ایک نام کے مرید نے جس کا نام یہودا اسکریوطی تھا یہودیوں سے تیس روپیہ لے کر حضرت مسیح کو گرفتار کروایا۔ ایسا ہی میرے مقدمہ میں ہوا کہ عبدالحمید نامی ایک میرے ادعائی مرید نے نصرانیوں کے پاس جاکر اور ان کی طمع دہی میں گرفتار ہوکر ان کی تعلیم سے میرے پر ارادہ قتل کا مقدمہ بنایا۔ دوسری مماثلت یہ کہ مسیح کا مقدمہ ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہوا تھا۔ ایسا ہی میرا مقدمہ بھی امرتسر کے ضلع سے گورداسپورہ کے ضلع میں منتقل ہوا۔ تیسری مماثلت یہ کہ پیلاطوس نے حضرت مسیح کی نسبت کہا تھا کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا۔ ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب نے عین عدالت میں ڈاکٹر کلارک کے روبرو مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔ چوتھی مماثلت یہ کہ جس روز مسیح نے صلیبی موت سے نجات پائی اس روز اس کے ساتھ ایک چور گرفتار ہو کر سزایاب ہوگیا تھا ایسا ہی میرے ساتھ بھی اسی تاریخ یعنی ۲۳؍ اگست ۱۸۹۷ ء کو اسی گھڑی میں جب میں بری ہوا تو مکتی فوج کا ایک عیسائی بوجہ چوری گرفتار ہو کر اسی عدالت میں پیش ہوا۔ چنانچہ اس چور نے تین مہینہ قید کی سزا پائی۔ پانچویں مماثلت یہ کہ مسیح کے گرفتار کرانے کے لئے یہودیوں اور ان کے سردار کاہن نے شور مچایا تھا کہ مسیح سلطنت روم کا باغی ہے اور آپ بادشاہ بننا چاہتا ہے۔ ایسا ہی محمد حسین بٹالوی نے عیسائیوں کا گواہ بن کر عدالت میں محض شرارت سے شور مچایا کہ یہ شخص بادشاہ بننا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے مخالف جس قدر سلطنتیں ہیں سب کاٹی جائیں گی۔ چھٹی مماثلت یہ کہ جس طرح پیلاطوس نے سردار کاہن کے بکواس پر کچھ بھی توجہ نہ کی اور سمجھ لیا کہ مسیح کا یہ شخص پکا دشمن ہے۔ اسی طرح کپتان ایچ ایم ڈگلس صاحب نے محمد حسین بٹالوی کے بیان پر کچھ بھی توجہ نہ کی۔ اور اس کے اظہار میں لکھ دیا کہ یہ شخص مرزا صاحب کا پکا دشمن ہے۔ اور پھر اخیر حکم میں اس کے اظہار کا