ٹھہر سکتا ہے؟ اور یہی فاضل یہودی اس مقام میں لکھتا ہے کہ عیسائی ایلیا کے بارے میں ہمیں یہ جواب دیتے ہیں کہ ایلیا کے نزول سے یوحنا بن زکریا کا آنا مراد ہے جس کو مسلمان یحییٰ کہتے ہیں اور مراد یہ تھی کہ ایلیا کی قوت اور طبع پر ایک شخص یعنی یحییٰ آئے گا۔ نہ یہ کہ حقیقت میں کوئی آسمان سے اتر آئے گا۔ اس کے جواب میں فاضل مذکور لکھتا ہے کہ ’’ناظرین خود انصافاًہم میں اور عیسائیوں میں فیصلہ کریں کہ اگر درحقیقت ایلیا سے مراد یوحنا یعنی یحییٰ ہوتا تو خداتعالیٰ ہرگز یہ نہ کہتا کہ خود ایلیا واپس آئے گا بلکہ یہ کہتا کہ اس کا مثیل یحییٰ آئے گا‘‘۔ اور اس پر فاضل مذکور بہت زور دیتا ہے کہ ’’نصوص کو ظاہر سے پھیرنا بغیر کسی قرینہ قویہ کے یہی جھوٹے نبی کا نشان ہے‘‘۔
اب سوچنا چاہیے کہ نبیوں کی پیشگوئیوں میں کیسے کیسے مشکلات ہیں۔ مثلاً ایلیا کی پیشگوئی میں کیسی مصیبت کا یہودیوں کو سامنا پیش آیا کہ اب تک وہ حضرت مسیح کے قبول کرنے سے محروم رہے۔ کیا تعجب کی جگہ نہیں کہ یہود جیسی ایک تجربہ کار اور الٰہی کتابوں میں نشوونما پانے والی قوم ایلیا کے لفظ پر آکر ایسے حق سے دور جا پڑی کہ یحییٰ نبی سے بھی انکار کر دیا؟ اس سے دانا معلوم کر سکتا ہے کہ پیشگوئیوں کی تکذیب میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کہ اکثر ان پر استعارات غالب ہوتے ہیں۔ عقلمند وہ ہوتا ہے جو دوسرے سے نصیحت پکڑتا اور عبرت حاصل کرتا ہے۔ مسلمانوں کو حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں اسی خطرناک انجام سے ڈرنا چاہیے کہ جو یہودیوں کو ایلیا کے بارے میں ظاہر نص پر زو ر دینے سے پیش آیا۔ جس بات کی پہلے زمانوں میں کوئی بھی نظیر نہ ہو بلکہ اس کے باطل ہونے پر نظیریں موجود ہوں اس بات کے پیچھے پڑ جانا نہایت درجہ کے بے وقوف کا کام ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3۔۱ یعنی خدا کیؔ سنتوں اور عادات کا نمونہ یہود اور نصاریٰ سے پوچھ لو اگر تمہیں معلوم نہیں۔
اب ہم اس تقریر کو اسی قدر پر کفایت کر کے ایک اور عجیب بات بیان کرتے ہیں کہ