بے ؔ تعلق قیاس ہے جس کو منطق کی اصطلاح میں قیاس مع الفارق کہا جاتا ہے۔ کیونکہ زٹلی کی تحریر میں علمی رنگ میں کوئی اعتراض نہیں تا اُس کا دفع کرنا مقدم ہوتا بلکہ وہ تو صرف مسخرہ پن سے ہنسی اور ٹھٹھے کے طور پر نہایت گندی گالیاں دیتا ہے اور بجُز اُن گالیوں کے اُس کے اخبار اور اشتہار میں کُچھ بھی نہیں اور اسی قدر حیثیت اسکی زٹلّی کے لفظ سے بھی مفہوم ہوتی ہے جواُس نے اپنے لئے مقرر کیا ہے۔ پس اُس کے بارے میں میموریل بھیجنا صرف اِس غرض سے تھا کہ تا دکھلایا جائے کہ یہ لوگ کیسی گندی بد زبانی سے عادی اور ہم کو ناحق سخت گوئی سے متہم کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارے مخالفوں نے شرارت سے یہ مشہور کررکھا ہے کہ ہماری تحریریں درشت اور سخت اور فتنہ انگیز ہیں اِس لئے ضرور تھا کہ ہم گورنمنٹ کو اُن کی تحریروں کا کچھ نمونہ دِکھلاتے جیسا کہ ہم نے کتاب البریت میں بھی کسی قدر نمونہ دکھلایا ہے۔لیکن میری جماعت کا یہ میموریل اُس حالت میں انجمن کے میموریل سے ہم رنگ اور ہم شکل ہوسکتا تھا کہ جبکہ انجمن کی طرح میری جماعت بھی زٹلّی کے باز پُرس اور سزا کے لئے کوئی درخواست کرتی اور ظاہر ہے کہ اُنہوں نے میموریل میں زٹلی کو آپ ہی معافی دے دی ہے اور لکھ دیا ہے کہ ہم کوئی سزا دلانا اُس کو نہیں چاہتے۔ اب دیکھو یہ کس قدر اخلاقی امر ہے جس کو عمداً ابزرور نے ظاہر نہیں کیاتا حقیقت کے کھلنے سے اُس کا مطلب فوت نہ ہو۔ خلاصہ یہ کہ زٹلی کی اصل غرض صرف گالیاں دینا اور ٹھٹھا اور ہنسی کرنا ہے مگر صاحبِ رسالہ اُمّہات المؤمنین کی اصل غرض اعتراض کرنا ہے اور سخت زبانی اُس نے صرف اسی وجہ سے اختیار کی ہے کہ تا لوگ مشتعل ہو کر اُس کے اصل مقصود کی طرف توجّہ نہ کریں۔ لہٰذا اُس کی گالیوں کی طرف توجّہ کرنا اصل مطلب سے دُور جاپڑنا تھا۔ پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ ان دونوں میموریل کو ایک ہی صورت اور ایک ہی شکل کے خیال کیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ اصول ہونا چاہئیے کہ جب کسی مخالف کے کلام میں گالیاں اور اعتراض جمع