ہوںؔ تو اول اعتراضات کا جواب دے کر عامہ خلائق کو دھوکہ کھانے سے بچاویں۔ پھر اور امور کی نسبت جو کچھ مقتضا وقت اور مصلحت کا ہو وہی کریں خواہ نخواہ ہنگامہ پردازی کا سلسلہ شروع نہ کریں۔ ماسوا اِس کے جیسا کہ بیان کرچکا ہوں ہماری جماعت کے میموریل میں زٹلی کو سزا دینے کے لئے ہرگز درخواست نہیں کی گئی بلکہ اس میموریل کے فقرہ ششم کو دیکھنا چاہئیے۔ اس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ہم ہرگز مناسب نہیں سمجھتے کہ ملّا مذکور اور دیگر ایسے فتنہ پردازوں پر عدالت فوجداری میں مقدمات کریں۔ اِس لئے کہ ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ ہم اپنے اوقات گرامی کو جھگڑوں اور مقدمات میں ضائع نہ کریں اور نہ کسی ایسے امر کا ارتکاب کریں جس کا نتیجہ فساد ہو۔
اب دیکھو کہ جس میموریل کو ہمارے اس میموریل سے متناقض سمجھا گیا ہے وہ کیسے اس کی اصل منشاء کے موافق اور مطابق ہے۔ نہایت افسوس ہے کہ قبل اس کے جو میموریل کو غور سے پڑھا جاتا اعتراض کیا گیا ہے۔
اخیر پر پنجاب ابزرور میں اِس بات پر بہت ہی زور دیا ہے کہ ایسے سخت کلمات کے سُننے سے جو رسالہ اُمّہات المؤمنین میں درج ہیں اگر ایک مہذب آدمی جو اپنے دل پر قہر کرکے صبر کرسکتا ہے کوئی جوش دِکھلانے سے چُپ رہے تو کیا اُس کے ہم مذہبوں کی کثیر جماعت بھی جو اِس قدر صبر نہیں رکھتی چپ رہ سکتی ہے۔ یعنی بہرحال نقض امن کا اندیشہ دامنگیر ہے جس کا قانونی طور پر انسداد ضروری ہے۔‘‘ مَیں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ مَیں نے کب اور کس وقت اِس بات سے انکار کیا ہے کہ ایسی فتنہ انگیز تحریروں سے نقض امن کا احتمال ہے بلکہ مَیں تو کہتا ہوں کہ نہ صرف معمولی احتمال بلکہ سخت احتمال ہے بشرطیکہ مسلمانوں کے عوام پڑھے لکھے آدمی ہوں۔ لیکن مَیں بار بار کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے انسداد کے لئے جو تدبیر سوچی گئی ہے اور جس مراد سے میموریل روانہ کیا گیا ہے یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ بلکہ نہایت کچا اور بودا خیال ہے۔ اِس انجمن