پڑھتےؔ تو ایسا ہرگز نہ لکھتے۔ کیونکہ اول تو اس میموریل اور انجمن کے میموریل میں گویا زمین آسمان کا فرق ہے۔ جس شخص کے سزا یا کتابوں کے تلف کرانے کے لئے انجمن نے میموریل بھیجا ہے اُس نے زٹلّی کی طرح یہ طریق اختیار نہیں کیا کہ صرف گالیاں دی ہوں۔ بلکہ علاوہ گالیوں کے اپنی دانست میں اسلامی کتابوں کے حوالے دے کر اعتراض لکھے ہیں۔ چنانچہ متعصب عیسائیوں کا اسی بات پر زور ہے کہ اُس نے کوئی گالی نہیں دی بلکہ بحوالہ کتب اسلامیہ واقعات کو بیان کیا ہے سو اگرچہ یہ بالکل سچ اور سراسر سچ ہے کہ ایسا عذر پیش کرنے والے صریح جھوٹ بولتے اور راست گوئی کے طریق کو چھوڑتے ہیں لیکن انصافاً و عقلاً ہم پر یہی لازم ہے کہ اوّل اُن بہتانوں اور الزاموں کو جو خیانت اور ناانصافی سے لگائے گئے ہیں نہایت معقولیت اور صفائی کے ساتھ رفع کریں اور پھر اگر یہی سزا کافی نہ ہو کہ دروغگو کا دروغ کھولا جائے تو ہر ایک کو اختیار ہے کہ گورنمنٹ کی طرف توجّہ کرے۔ ہم نے نہایت نیک نیّتی سے اور اُس فہم سے جو خدا نے ہمارے دل میں ڈالا ہے اِسی بات کو پسند کیا ہے کہ گالیوں کے تصور سے ہمارے دِل سخت زخمی اور مجروح ہیں لیکن نہایت ضروری اور مقدم یہی کام ہے کہ عوام کو دھوکوں سے بچانے کے لئے پہلے الزاموں کے دُور کرنے کی طرف توجہ کریں۔ انجمن اور اُس کے حامیوں کو خبر نہیں ہے کہ آجکل اکثر لوگوں کے دِ ل کس قدر بیمار اور بد ظنّی کرنے کی طرف دَوڑتے ہیں۔ پھر جس حالت میں اُس خبیث کتاب کے مؤلّف نے اپنی اس کتاب میں یہی پیشگوئی کی ہے کہ مسلمان اِس کے جواب کی طرف ہرگز توجہ نہیں کریں گے تو اب اگر یہی پہلو سزا دلانے کا اختیار کیا جائے تو گویا اُس کی بات کو سچا کرنا ہے اور عوام کا کوئی مُنہ بند نہیں کرسکتا۔ ہماری اس سزا دلانے کی کارروائی پر عام لوگوں اور عیسائیوں اور آریوں کا یہی اعتراض ہوگا کہ یہ لوگ جبکہ جواب دینے سے عاجز آگئے تو اور تدبیروں کی طرف دوڑے۔ اب سوچو کہ اس قسم کی باتیں عوام کی زبان پر جاری ہونا کس قدر دین اسلام کی سُبکی کا موجب ہوسکتی ہیں۔ لیکن انجمن کے میموریل کا میری جماعت کے میموریل پر قیاس کرنا ایسا