مدافعتؔ کرے۔ یہ سچ ہے کہ چونکہ ہم اس گورنمنٹ کی رعایا ہیں اور دن رات بیشمار احسانات دیکھ رہے ہیں اس لئے ہمارا یہ فرض ہونا چاہئیے کہ سچے دل سے اس گورنمنٹ کی اطاعت کریں اور اس کے مقاصد کے مددگار ہوں اور اس کے مقابل پر ادب اور غربت اور فرمانبرداری کے ساتھ زندگی بسر کریں مگر چاہئیے کہ اعتقادی امور میں جو دار آخرت سے متعلق ہیں وہ طریق اختیار کریں جس کی صحت اور درستی پر ہماری عقل ہمارا کانشنس ہماری فراست فتویٰ دیتی ہو۔ ہم تو بار بار خود گواہی دیتے ہیں کہ نہایت ہی بدذات وہ لوگ ہیں جو متواتر احسانات اس گورنمنٹ کے دیکھ کر اور اس کے زیر سایہ اپنے مال اور جان اور عزت کو محفوظ پا کر پھر بغاوت کے خیالات دِل میں پوشیدہ رکھتے ہوں۔ یہ تو ہمارا وہ مذہب ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ سکھلاتا ہے لیکن پادریوں کے افتراؤں کا جواب دینا یہ امر دیگر ہے اور یہ خدا کا حق ہے جس کو ادا کرنا لازم ہے۔ سر سید احمد خاں صاحب کی قدیم پالیسی اسی کی گواہ ہے۔ وہ ہمیشہ پادریوں کا ردّ لکھتے رہے یہاں تک کہ میور صاحب الہ آباد کے لفٹیننٹ گورنر کی کتاب کا بھی کسی قدر ردّ لکھا مگر پادریوں کے سزا دلانے کے لئے یا کتابوں کے تلف کرنے کے لئے کبھی انہوں نے گورنمنٹ میں میموریل نہ بھیجا۔ سو ہمیں وہ راہ نکالنی چاہیئے جو واقعی طور پر ہماری نسلوں کو مفید ہو اور دین اسلام کی حقیقی عزت اس سے پیدا ہو اور وہ یہی ہے کہ ہم اعتراضات کے دفع کرنے کے لئے متوجہ ہوں اور نوجوانوں کو ٹھوکر کھانے سے بچاویں۔ ایک اور حملہ پنجاب ابزرور میں بحمایت انجمن مذکور ہم پر کیا گیا ہے جو پرچہ مؤرخہ مئی ۹۸ء ؁ میں شائع ہؤا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایڈیٹر صاحب نے پرچہ مذکور میں یہ خیال کرلیا ہے کہ گویا ہماری جماعت نے زٹلی نام ایک شخص کی گالیوں سے مشتعل ہو کر اُس کے سزا دلانے کے لئے گورنمنٹ میں میموریل بھیجا ہے اور یہ حرکت ان کی صاف جتلا رہی ہے کہ وہ جوش جو ان کو سزا دلانے کے لئے اس جگہ آیا اس جوش اور غیرت کے برخلاف وہ میموریل ہے جو انجمن حمایت اسلام کی مخالفت میں لکھا گیا ہے۔ لیکن ایڈیٹر صاحب اگر میری جماعت کے میموریل کو ذرہ غور سے