ابؔ انجمن نے جواب سے منہ پھیر کر اور ایک دوسرا پہلو اختیار کر کے دکھا دیا کہ یہ گمان ان کا ٹھیک ہے اور انجمن کے حامی جیسا کہ پیسہ اخبار اور پنجاب ابزرور زور سے کہتے ہیں کہ ردّ کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی پہلی کتابیں بہت ہیں۔ اب وہی بات ہوئی جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3۔۱
اب کیا انجمن اس صورت میں جو میموریل کا نشانہ خالی جائے یا ادھورا رہے اس دوسرے پہلو کو اختیار کر سکتی ہے کہ ردّ لکھا جائے اور ایسے ارادے کو پیسہ اخبار یا ابزرور وغیرہ اخباروں میں شائع کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب اہل اسلام دیکھ لیں کہ اس انجمن کی شتاب کاری سے کس قدر اسلام کی حقیقی کارروائی کو ضرر پہنچا ہے اور کیسے اسلام کی مدافعت میں حرج واقع ہوا ہے۔ سرسیّد احمد خان بالقابہ کیسا بہادر اور زیرک اور ان کاموں میں فراست رکھنے والا آدمی تھا انہوں نے آخری وقت میں بھی اس کتاب کا رد لکھنا بہت ضروری سمجھا اور میموریل بھیجنے کی طرف ہرگز التفات نہ کیا۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو آج وہ میری رائے کی ایسی ہی تائید کرتے جیسا کہ انہوں نے سلطان روم کے بارے میں صرف میری ہی رائے کی تائید کی تھی اور مخالفانہ راؤں کو بہت ناپسند اور قابل اعتراض قرار دیا تھا۔ اب ہم اس بزرگ پولیٹیکل مصالح شناس کو کہاں سے پیدا کریں تا وہ بھی ہم سے مل کر اس انجمن کی شتاب کاری پر روویں۔ سچ ہے ’’قدر مرداں بعد از مُردن‘‘۔
اگر اس انجمن کی طرف سے یہ عذر پیش ہو کہ ہم اس لئے ردّ لکھنے کے مخالف ہیں کہ یہ لوگ گو کیسی ہی دریدہ دہنی سے کام لیتے ہیں مگر پھر بھی شاہی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کا ردّ لکھنا ادب کے مخالف ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ کیا مواخذہ کرنے کے لئے اور سزا دلانے کے لئے میموریل بھیجنا یہ ادب میں داخل ہے۔ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے نہایت عقلمندی اور بلند ہمتی سے یہ قانون ہر ایک کے لئے کھولا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے مذہب پر اختلاف رائے کی بنا پر حملہ کرے تو اس دوسرے شخص کا بھی اختیار ہے کہ وہ اس حملہ کی