کہؔ مسلمانوں میں سے صدہا معزز اور ذی رتبہ اور اہل علم اور تعلیم یافتہ جن کی نظیر انجمن کے ممبروں یا حامیوں میں تلاش کرنا تضییع اوقات ہے مجھ کو وہ مسیح موعود مانتے ہیں جس کی تعریفیں خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں۔ پھر یہ خیال ظاہر کرنا کہ تمام لوگ صرف ایک ملّا خیال کرتے ہیں اُن لوگوں کا کام ہے جو شرم اور دیانت اور راست گوئی سے کچھ تعلق نہیں رکھتے۔ مگر کچھ افسوس کی جگہ نہیں۔ کیونکہ پہلے بھی راستبازوں اور نبیوں اور رسولوں کو ایسا ہی کہا گیا ہے اور یہ کہنا کہ مرزا صاحب اپنے معتقدوں کی تعداد تین سو اٹھارہ سے زیادہ نہیں بتلا سکے یہ کس قدر حق پوشی ہے۔ یہ تعداد تو صرف ان لوگوں کی لکھی گئی تھی جو سرسری طور پر اس وقت خیال میں آئے نہ یہ کہ درحقیقت یہی تعداد تھی اور اسی پر حصر رکھا گیا تھا بلکہ ہم نے اپنے ایک مضمون میں صاف طور پر شائع بھی کر دیا تھا کہ اب تعداد ہماری جماعت کی آٹھ ہزار سے کم نہیں ہوگی۔ لیکن یہ ایک مدت کی بات ہے اور اس وقت تو بڑے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ دو ہزار اور بڑھ گئے ہیں اور ہماری جماعت اس وقت دس ہزار سے کم نہیں ہے جو پشاور سے لے کر بمبئی کلکتہ کراچی حیدر آباد دکن مدراس ملک آسام بخارا غزنی مکہ مدینہ اور بلادشام تک پھیلی ہوئی ہے اور ہر ایک سال میں کم سے کم تین چار سو آدمی ہماری جماعت میں بزمرہ بیعت کنندگان داخل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی دس دن بھی قادیان آکر ٹھہرے تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر تیزی سے خداتعالیٰ کا فضل لوگوں کو ہماری طرف کھینچ رہا ہے۔ اندھوں اور نابیناؤں کو کیا خبر ہے کہ کس عظمت کی حد تک یہ سلسلہ پہنچ گیا ہے۔ اور کیسے طالب حق لوگ 3۔۱؂ کے مصداق ہو رہے ہیں۔ پھر کیا سبب ہے کہ یہ انجمن باوجود اپنی اس مختصر حیثیت اور کمزور زندگی کے آفتاب پر تھوک رہی ہے؟ کیا یہی سبب نہیں کہ ان لوگوں کو دین کی طرف توجہ نہیں۔ باوجودیکہ دور دور سے صدہا آدمی آکر ہدایت پاتے جاتے ہیں مگر اس انجمن کا ایک ممبر بھی اب تک ہمارے پاس نہیں آیا کہ تاحق کے طالبوں کی طرح