ہم ؔ سے ہمارے دعوے کے وجوہات دریافت کرے۔ کیا یہ دینداری کی علامت ہے کہ ایک شخص ان کے درمیان کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی متابعت کے لئے تمہیں وصیت کی گئی ہے اور ان میں سے اُس کی کوئی آواز نہیں سنتا؟ اور نہ دعوے کو رد کر سکتے ہیں اور نہ بغض کی وجہ سے قبول کر سکتے ہیں۔ کیا یہ اسلام ہے؟ بلکہ کبھی تو محض افترا کے طور پر ہمارے ذاتیات پر اس انجمن کے حامی حملے کرتے ہیں اور کبھی اپنی بات کو سرسبز کرنے کے لئے صریح جھوٹ بولتے ہیں اور کبھی گورنمنٹ عالیہ کو جو ہمارے حالات اور ہمارے خاندان کے حالات سے بے خبر نہیں ہے دھوکہ دہی کے طور پر اکسانا چاہتے ہیں کیا یہ اسلام کی حمایت ہو رہی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ذرہ توجہ کر کے دوسرے فرقوں کی قومی ہمدردی دیکھو- مثلاً باوجود اس کے کہ سناتن دھرم اور آریہ مت کے ممبروں میں بھی سخت نفاق ہے۔ بلکہ آریہ سماج والوں کا ایک گروہ دوسرے سے سخت عداوت رکھتا ہے لیکن پھر بھی انہوں نے بھی قومی ہمدردی کا لحاظ رکھ کر کبھی ایک دوسرے پر گورنمنٹ کو توجہ نہیں دلائی لیکن انجمن حمایت اسلام کے حامیوں پیسہ اخبار اور پنجاب ابزرورنے ہماری ذاتیات پر بحث کرتے ہوئے اپنی تقریر کو قریب قریب قانون سڈیشن کے پہنچا دیا ہے اور ہم اب کی دفعہ ان بیجا حملوں کی نسبت عفو اور درگذر سے کاربند ہوتے ہیں مگر آئندہ ہم ان دونوں پرچوں کے ایڈیٹروں کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ واقعات صحیحہ کے برخلاف لکھنے کے وقت اپنی نازک ذمہ داریوں کو بھول نہ جائیں اور قانون کا نشانہ بننے سے پرہیز کریں اور جو کچھ ہماری نسبت اور ہماری جماعت کی نسبت لکھیں سوچ سمجھ کر لکھیں کیونکہ ہر ایک دفعہ اور ہر ایک موقعہ پر ایک ظالم انسان معافی دئیے جانے کا حق نہیں رکھتا۔ بیشک عفو اور درگذر ہمارا اصول ہے اور بدی کا مقابلہ نہ کرنا ہمارا طریق ہے لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ گو کسی کے افترا اور دروغ سے کیسا ہی ضرر اور بدنامی ہماری ذات کے عائد حال ہو یا ہمارے مشن پربد اثر کرے پھر بھی ہم بہرحال خاموش ہی رہیں۔ بلکہ ایسی بدنامی جو ہمارے پر دغابازی اور بددیانتی اور جھوٹ