انہیںؔ مسلمانوں کا معتمد علیہ بننے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس اعتراض کے جواب میں اوّل تو یہ سمجھ رکھنا چاہئیے کہ ہمارے دین نے رسم اور عادت کے طور پر کسی چیز کو پسند نہیں کیا۔ اگر ایک شخص اپنی ذات میں دینی مقتدا یا معتمد علیہ ہونے کی کوئی حقیقی لیاقت نہیں رکھتا بلکہ برخلاف اس کے بہت سے نقص اس میں پائے جاتے ہیں لیکن با ایں ہمہ ایک گروہ کثیر کا مرجع ہے تو ہمارا دین ہرگز روا نہیں رکھتا کہ صرف مرجع عوام ہونے کی وجہ سے اس کو قوم کا وکیل اور مدارالمہام سمجھا جائے۔ ایسا فتویٰ ہم قرآن شریف میں نہیں پاتے۔ قرآن شریف تو جابجا یہی فرماتاہے کہ امام اور مقتدا اور صاحب الامر بنانے کے لائق وہی لوگ ہیں کہ جن کے دینی معلومات وسیع ہوں اور فراست صحیحہ اور بسطۃ فی العلم رکھتے ہوں اور تقویٰ اور طہارت اور اخلاص کی صفات حسنہ سے موصوف ہوں ایسے نہ ہوں کہ اپنے اغراض کی وجہ سے اور چندوں کے لالچ سے ہر ایک فرقہ ضالہ کو ممبر انجمن بنانے کے لئے طیار ہوں۔ غرض خداتعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ صاحب الامر بنانے کے لئے حقیقی لیاقت دیکھو بھیڑچال کو اختیار نہ کرو۔
پھر ماسوا اس کے یہ خیال بھی غلط ہے کہ مسلمانوں نے انجمن حمایت کے لوگوں کو دلی اعتقاد سے اپنا امام اور مقتدا اور پیشرو بنا رکھا ہے بلکہ اصل حال یہ ہے کہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے ساتھ جس قدر لوگ شامل ہیں وہ اس خیال سے شامل ہیں کہ یہ انجمن مہمات اسلام میں اپنی رائے سے کُچھ نہیں کرتی بلکہ مسلمانوں کے عام مشورہ اور کثرت رائے سے کسی پہلو کو اختیار کرتی ہے۔ یہی غلطی ہے جس سے اکثرلوگ دھوکہ کھاتے ہیں نہ یہ کہ درحقیقت وہ تسلیم کر چکے ہیں کہ یہی انجمن شیخ الکل فی الکل ہے۔ یہ تو انجمن کے مسلّم الوقعت ہونے کی حقیقت ہے جو ہم نے بیان کی۔ رہا یہ الزام کہ گویا یہ راقم تمام مسلمانوں کی نظر میں صرف ایک ملّا یا واعظ کی حیثیت رکھتا ہے یہ وہ قابل شرم جھوٹ ہے جو کوئی شریف اور نیک ذات آدمی استعمال نہیں کر سکتا۔ انجمن کو معلوم ہے