عام جلسوں میں سخت گوئی پر کمر باندھ لی اور اُس نے یہ ارؔ ادہ ظاہر کیا کہ گویا جس قدر پنجاب اور ہندوستان میں آٹھ سو برس سے ہندو خاندان سے مسلمان ہوئے ہیں اُن سب کی اولاد کو پھر ہندو بنایا جائے۔ یہ شخص اس قدر سخت گو انسان تھا کہ بیچارے سناتن دھرم والے بھی اس کی زبان سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اگر جلد تر موت مقدر اس کو چُپ نہ کرا دیتی تو معلوم نہیں کہ اُس کی تحریروں اور تقریروں سے کیا کیا ملک میں فتنے پیدا ہوتے۔ میں نے سنا ہے کہ بسا اوقات عین اس کے ویا کھیان کیوقت بعض ہندو صاحبوں نے بباعث سخت اشتعال کے اس کی طرف پتھر پھینکے۔ پس جبکہ آریوں کی طرف سے اس حد تک نوبت پہنچ گئی تھی کہ بازاروں میں کوچوں میں گلیوں میں عام جلسوں میں اسلام کی توہین کی جاتی تھی اور ہندوؤں کو مسلمانوں کی مخالطت سے نفرت دلائی گئی تھی اور بغض اور توہین اور سخت گوئی کا سبق دیا جاتا تھا۔ تو اس صورت میں بجز ایسے نام کے مسلمانوں کے جو دین سے کوئی حقیقی تعلق نہ رکھتے ہوں ہر ایک مسلمان کو اس نئے پنتھ کی شوخی سے درد پہنچنا ایک لازمی امر تھا اور اسی وجہ سے اور اسی باعث سے کتاب براہین احمدیہ بھی لکھی گئی تھی۔ اب ہم انجمن حمایت اسلام اور اس کے حامیوں کو کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے اسلام کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھ کر اس قدر سچائی کا خون کیا۔ ہمارا تمام شکوہ خداتعالیٰ کی جناب میں ہے۔ یہ لوگ اسلام کا دعویٰ کر کے اسلام کی حمایت کا دعویٰ کر کے کس بددیانتی سے زبان کھول رہے ہیں اور ہمیں کب امید ہے کہ اب بھی وہ نادم ہو کر اپنی غلطی کا اقرار کر کے باز آجائیں گے۔ مگر خدا جوہمارے دل اور ان کے دلوں کو دیکھ رہا ہے وہ بیشک اپنی سنت کے موافق ان میں اور ہم میں فیصلہ کرے گا۔ 3۔۱؂ پھر ایک اعتراض انجمن حمایت اسلام لاہور کے حامیوں کا یہ ہے کہ اس انجمن کے ممبر اور ہمدرد تو ہزارہا مسلمان ہیں اور اس کی وقعت اور ذمہ واری مسلّمہ ہے مگر مرزا صاحب کو اس سے زیادہ ایک ذرہ حیثیت حاصل نہیں کہ وہ ایک مُلّا یا مولوی یا مناظر یا مجادل ہیں