اب حمایت اسلام کا لفظ ان کے لئے موزوں ہے یا حمایت آریہ کا۔ اور پھر یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ حسب قول حامیان انجمن حمایت اسلام سرمہ چشم آریہ کے وؔ قت اندرمن کی کتابیں ازیاد رفتہ ہو چکی تھیں۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ صرف میرے کینہ کی وجہ سے اس انجمن اور اس کے حامیوں نے انصاف اور راستی کے طریق کو کیوں چھوڑ دیا۔ اندرمن کی کتابوں کو کون سا ہزار دو ہزار برس گذر گیا تھا کہ مسلمانوں کو وہ زخم بھول گئے تھے کہ جو ناحق افترا سے اس کی کتاب تحفۃ الاسلام اور اندربجر اور پاداش اسلام سے دلوں کو پہنچے تھے اور وہ کیسے مسلمان تھے جنہوں نے ایسی مفتریانہ دھوکہ دِہ کتابوں کو ازیاد رفتہ کر دیا تھا اور اُن تحریروں پر راضی ہوگئے تھے۔ وہ کتابیں تو اب تک ہندو پیار سے پڑھتے اور شائع کرتے ہیں۔
ماسوا اس کے پھر ان کتابوں کے بعد ایک اور کتاب جو نہایت گندی تھی آریہ سماج والوں نے شائع کی جو کچھ تھوڑا عرصہ پہلے سرمہ چشم آریہ سے تالیف کی گئی تھی جس کو پنڈت دیانند نے تالیف کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا چاہا تھا جس کا نام ستیارتھ پرکاش ہے۔ اور ماسوا اس کے آریوں میں بذریعہ پنڈت دیانند ایک نئی نئی تیزی پیدا ہو کر اور کئی چھوٹے چھوٹے رسالے بھی شائع ہونے شروع ہوگئے تھے اور ایک دو اخبار بھی اسی غرض سے نکلتے تھے جو اکثر بدزبانی سے بھرے ہوتے تھے اور ان لوگوں نے اور ان کے مذہب نے جنم لیتے ہی اسلام پر حملہ کرنا اور سخت الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور نہ صرف اسلام بلکہ وہ تو راجہ رامچندر اور راجہ کرشن وغیرہ ہندوؤں کے نسبت بھی اچھے خیال نہیں رکھتے تھے اور نہ باوا نانک صاحب کی نسبت ان کی تحریریں مہذبانہ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں سے عام طور پر شور برپا ہوا تھا اور پنڈت دیانند اور اس کے حامیوں کی اس وقت یہ کتابیں شائع ہوئی تھیں کہ جبکہ میری کسی کتاب کا نام و نشان نہ تھا اور ایک ورق بھی میں نے تالیف نہیں کیا تھا اور پنڈت دیانند نے صرف یہی نہیں کیا کہ ستیارتھ پرکاش کو تالیف کر کے کروڑہا مسلمانوں کا دل دکھایا بلکہ اس نے پنجاب اور ہندوستان کا دورہ کر کے