خدائے ؔ علیم ہی ان کو جزا دے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ رسالہ سرمہ چشم آریہ ایک زبانی مباحثہ کے طور پر بمقام ہوشیارپور لکھا گیا تھا اور یہ بات ہوشیارپور کے صدہا مسلمانوں اور ہندوؤں کو معلوم ہے کہ سرمہ چشم آریہ کے لکھے جانے کے خود آریہ صاحب ہی باعث اور محرک ہوئے تھے۔ سرمہ چشم آریہ کیا چیز ہے؟ یہ وہی مباحثہ ہے جو بتاریخ ۱۴؍ مارچ ۱۸۸۶ ؁ء مجھ میں اور منشی مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹر میں انہی کے نہایت اصرار سے بمقام ہوشیارپور شیخ مہر علی رئیس کے مکان پر ہوا تھا۔ چنانچہ یہ تمام تفصیل دیباچہ سرمہ چشم آریہ میں لکھ دی گئی ہے۔* یہ مباحثہ نہایت متانت اور تہذیب سے ہوا تھا اور قریباً پانسو ہندو اور مسلمان کی حاضری میں سنایا گیا تھا پھر کس قدر جھوٹ اور قابل شرم خیانت ہے کہ اس کتاب کو آریوں اور مسلمانوں کے نفاق کی جڑ ٹھہرائی گئی ہے۔ ہم ہر ایک تاوان کے سزاوار ہوں گے اگر کوئی یہ ثابت کر کے دکھلاوے کہ صرف ہمارے دلی جوش سے یہ کتاب لکھی گئی تھی اور اُس کے محرک لالہ مرلی دھر صاحب نہیں تھے۔ بلکہ ہم قصّہ کوتاہ کرنے کے لئے خود لالہ مرلی دھر صاحب کو ہی اس بارے میں منصف ٹھہراتے ہیں وہ حلفاًبیان کریں کہ کیا یہ مباحثہ بمقام ہوشیارپور ہماری تحریک سے ہوا تھا یا خود وہ میرے مکان پر آئے اور اس مباحثہ کے لئے درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اسلام پر میرے کئی سوالات ہیں اور نہایت اصرار سے مباحثہ کی ٹھہرائی تھی؟ ماسوا اس کے کوئی منصف اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھ کر دیکھ لے اس میں کوئی سخت لفظ نہیں ہے۔ ہر ایک لفظ بحکم ضرورت بیان کیا گیا ہے جو محل پر چسپاں ہے پھر کیوں کر اس انجمن کے حامیوں نے میرے پر یہ الزام لگایا کہ آریہ صاحبوں اور لیکھرام کا کچھ بھی قصور نہیں دراصل زیادتی اس شخص کی طرف سے ہوئی ہے۔ اس سے ناظرین سمجھ لیں کہ اس انجمن کی نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ سچ کہیں کہ سرمہ چشم آریہ کے صفحہ ۴ میں یہ عبارت ہے۔ لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر سے بمقام ہوشیار پور مباحثہ مذہبی کا اتفاق ہوا وجہ اس کی یہ ہوئی کہ ماسٹر صاحب موصوف نے خود آ کر درخواست کی۔منہ