کرتاؔ ۔ بلکہ میں نے اس میموریل کے صفحہ ۹ میں تو رسالہ مذکورہ کا موجب نقض امن ہونا ظاہر کیا اور پھر صفحہ د۱۰س میں اسی بناء پر گورنمنٹ کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے انسداد کے لئے دو طریق میں سے ایک طریق اختیار کرے یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مباحث کو ہدایت فرماوے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف ان کتابوں کی بنا پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں اور یا یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ حکم فرماوے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق کے عقائد اور اعمال پر ہرگز حملہ نہ کرے۔ اب ہر ایک منصف سوچ سکتا ہے کہ ان عبارتوں میں کہاں میں نے لکھا ہے کہ رسالہ امّہات المؤمنین تلف کیا جائے یا روکا جائے اور میرے اس میموریل اور دوسرے میموریل میں کہاں تناقض ہے؟ کیا تناقض اس سے پیدا ہو جائے گا کہ مدافعت کے طور پر معترضین کے اعتراضات کا جواب دیں اس غرض سے کہ تا اپنے مذہب کی خوبیاں ظاہر کر کے دکھلاویں؟ (۳) تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ’’اگر مرزا صاحب نے سرمہ چشم آریہ نہ لکھا ہوتا تو پنڈت لیکھرام تکذیب براہین احمدیہ میں سخت گوئی نہ کرتا اور بیہودہ اعتراض نہ لکھتا‘‘۔ اس میں ایڈیٹر صاحب کا مدعا یہ ہے کہ بیچارے آریوں کا کچھ بھی قصور نہیں تمام اشتعال سرمہ چشم آریہ سے پیدا ہوا ہے‘‘۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو اس نکتہ چینی کے وقت پھر ساتھ ہی یہ دھڑکہ بھی شروع ہوا کہ آریوں نے اسلام کا رد لکھنے میں پہلے سبقت کی ہے اور اندرمن مراد آبادی کی گندی کتابوں نے مسلمانوں میں شور ڈال دیا تھا لہٰذا انہوں نے آریوں کا وکیل بن کر یہ جواب دیا کہ جس وقت سرمہ چشم آریہ لکھا گیا اُن دنوں میں اندرمن کے مباحث بالکل پورانے اور ازیاد رفتہ ہو چکے تھے۔ لیکن اس تقریر میں جس قدر انہوں نے دروغ استعمال کیا ہے اور جس قدر حق کو چھپایا ہے اُس کی