کاموںؔ میں تو ایسے سرگرم ہیں کہ ساری تدبیریں عمل میں لاتے ہیں مگر اس بات کی کچھ بھی ضرورت نہیں سمجھتے کہ مخالفوں کی دن رات کی دجالی کوششوں کے مقابل پر اسلام کی طرف سے بھی کوشش ہوتی رہے۔ ہم تو اسی دن سے اس انجمن سے نومید ہوگئے جبکہ اس نے اس بے انتہا صلح کاری کی بنیاد ڈالی کہ ایک شخص حضرت ابوبکر اور حضرت فاروق کو سبّ و شتم کرنے والا اس کا پریذیڈنٹ ہو سکتا ہے اور ایسا ہی اُس کے مقابل پر فرقہ بیاضیہ کا بھی کوئی شخص ممبر ہونے کا حق رکھتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برے الفاظ اور توہین اور گالی سے یاد کرتا ہے۔ کیا ایسے اصولوں پر اس انجمن کے لئے ممکن تھا کہ درحقیقت راستی کی پابندی کر سکتی؟ (۲) دوسرا اعتراض یہ ہے کہ وہ میرے پر یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ گویا میں نے اپنے میموریل ۲۴؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء میں کتاب اُمّہات المؤمنین کے روکنے کی درخواست کی تھی اور اقرار کیا تھا کہ وہ موجب نقض امن ہے اور یہ بھی لکھا تھا کہ گورنمنٹ یہ قانون صادر فرمادے کہ ہر ایک فریق اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے اور پھر گویا میں نے اس میموریل کے برخلاف دوسرا میموریل بھیجا۔ اس اعتراض کے جواب میں اول یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے ۲۴؍ فروری ۱۸۹۸ ؁ء کے میموریل میں ہرگز اُمّہات المؤمنین کے روکنے کی درخواست نہیں کی۔ میرے اس میموریل کو غور سے پڑھا جائے کہ اگرچہ میں نے اس میں یہ قبول کیا ہے کہ اس رسالہ امّہات المؤمنین سے نقض امن کا اندیشہ ہو سکتا ہے لیکن گورنمنٹ سے ہرگز یہ درخواست نہیں کی کہ اس رسالہ کو روکے یا تلف کرے یا جلاوے بلکہ اسی میموریل میں مَیں نے لکھ دیا ہے کہ یہ رسالہ شائع ہو چکا ہے اور ایک ہزار مسلمان کے پاس مفت بلادرخواست بھیجا گیا ہے اور میرے بہت سے معزز دوستوں کو بھی بغیر اُن کی طلب کے پہنچایا گیا ہے۔ پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ میں اُس میموریل میں اس کے روکنے کی درخواست