ضرورؔ ت نہیں۔ انجمن حمایت اسلام خود غور کرے کہ جب ہمارا میموریل دیکھ کر اس کو فکر پڑگئی کہ اس کے میموریل کے وجوہات کمزور ثابت کئے گئے ہیں توکس طرح پنجاب آبزرور اور پیسہ اخبار کے ذریعہ سے اُس نے ہاتھ پیر مارے اور اس بات پر کفایت نہ کی کہ ہمارے میموریل کے وجوہات مکمل ہیں پھر اورکچھ لکھنے لکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ اسی طرح انسانی عدالتوں میں دیکھا جاتا ہے کہ جب ایک شخص اپنی اپیل میں عمدہ وجوہات کا سامان اکٹھا کرتا ہے تو فریق ثانی ہرگز اس بات پر قناعت نہیں رکھتا کہ پہلی عدالت میں مَیں کامل وجوہات دے چکا ہوں اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ اس اپیل کے وجوہات توڑوں یا وکیل کرتا پھروں بلکہ میرے پہلے وجوہات ہی کافی ہوں گے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ انجمن حمایت اسلام کے ممبر اور اس کے حامی اپنے دنیا کے امور میں ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہوں گے اور ایسا ہی سمجھتے ہوں گے مگر دین اسلام کے متعلق اس اصول کو بُھلا دیا ہے۔
غرض یہ یاد رہے کہ جو کچھ مخالفوں کے مقابل پر آج تک کیا گیا ہے کچھ بھی چیز نہیں۔ ہمارے مخالفوں نے کروڑہا کتابیں دنیا میں پھیلا کر ہر ایک قوم اور ہر ایک طبقہ کے انسان کو اسلام پر بدظن کر دیا ہے۔ ہم نے ان کی کروڑہا کتابوں اور رسائل اور ان دو ورقہ رسائل کے مقابل پر جو ایک ماہ میں کئی لاکھ پنجاب اور ہندوستان میں شائع کئے جاتے اور ہر ایک قوم اور مرد و زن تک پھیلائے جاتے ہیں کیا کیا ہے اور پھر اس تین ہزار اعتراض کا جو رنگا رنگ میں اور کئی علمی پیرایوں میں دنیا میں مشہور کئے گئے اور دلوں میں بٹھائے گئے ہیں اسلام کی طرف سے کیا جواب شائع ہوا ہے۔ یہ تو ہم نے تنزّل کے طور پر اُن اعتراضوں کو لکھا ہے جو اکثر دیکھنے اور سننے میں آئے۔ ورنہ نامنصف مخالفوں کو قرآن شریف کے صدہا مقامات پر اور بھی اعتراض ہیں جو ان کا جواب لکھنا گویا قرآن شریف کی ایک پوری تفسیر کو چاہتا ہے۔ اب اہل عقل اور انصاف ذرہ سوچیں کہ انجمن حمایت اسلام اور اُس کے حامیوں کی یہ کیسی ناانصافی ہے کہ وہ اپنے دنیا کے