مدافعت ؔ کی ہم پر واجب تھی وہ سب ہم کرچکے۔ اے غافلو! اللہ تعالیٰ کا خوف کرو۔ اندرونی کینوں کی وجہ سے سچائی کو کیوں چھوڑتے ہو؟ اور اس قدر کیوں بڑھے جاتے ہو؟ کیا ایک دن اپنے کاموں سے پوچھے نہیں جاؤ گے؟
ہمارے علماء نے جو کچھ اب تک کمیّت کے لحاظ سے اشاعت کا کام کیا ہے وہ ایک ایسا امر ہے جو اس کا خیال کر کے بے اختیار قوم کی حالت پر رونا آتا ہے کیونکہ جس طرح اس اشاعت میں پادریوں کو اپنی قوم کی طرف سے کروڑ ہا روپیہ کی مدد ملی اور انہوں نے کروڑہا تک شائع کردہ کتابوں کا عدد پہنچایا اگر اسلام کے مؤلّفین کو بھی یہ مدد ملتی تو وہ بھی اسی طرح کروڑہا کتابوں کی اشاعت سے دلوں میں ایک بھاری انقلاب عقائد حقّہ کی طرف پیدا کر دیتے۔ یہ وہ مصیبت ہے جو شائع کردہ کتابوں کی کمیت کے لحاظ سے اب تک اسلام پر ہے۔ اب دوسری مصیبت پر بھی غور کرو جو کیفیت کے لحاظ سے عائد حال اسلام ہے اور وہ یہ کہ تین ہزار اعتراض میں سے اب تک غایت کار ڈیڑھ سو یا پونے دو سو اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور وہ بھی اکثر الزامی طور پر اور اکثر ردّ لکھنے والوں کی کتابیں ایسی ہیں کہ جو حقیقی معارف اور علوم حکمیّہ کو چھو بھی نہیں گئیں اور بہت سا حصہ جنگ زرگری میں خرچ کیا گیا ہے۔ اب دیکھو کس قدر حمایت اسلام کا کام ہے جو کرنے کے لائق ہے۔ ماسوا اس کے یہ موٹی بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آج کل ہمارے متفنّی مخالفوں کا یہ طریق ہے کہ جن اعتراضوں کے آج سے چالیس برس پہلے جواب دئیے گئے تھے وہی اعتراض اور رنگوں اور پیرایوں اور طرح طرح کے نئے نئے طرز استدلال سے پیش کر رہے ہیں اور بعض جگہ طبعی یا ہیئت کی ان کے ساتھ رنگ آمیزی کر کے یا اور طرح کے دھوکہ دینے والے ثبوت تلاش کر کے ملک میں شائع کر دئیے ہیں اور ان اعتراضات کا بہت بڑا اثر ہو رہا ہے اور پہلے جوابات ان کی نئی طرز اور طریق کے مقابل پر منسوخ کی طرح ہیں۔ پھر کون عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اب ان اعتراضات کے جواب لکھنے کی