انؔ کو خبر تک نہیں کہ مسلمانوں نے عیسائیوں کی ان کتابوں اور رسائل کا کیا جواب دیا ہے مگر شاذ نادر کوئی ہندو ایسا ہوگا جس نے عیسائیوں کی ایسی گندی کتابیں نہ دیکھی ہوں جو اسلام کے ردّ میں لکھی گئیں۔ ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص ہندوؤں میں سے کُچھ اردو سمجھ سکتا ہے یا انگریزی خوان ہے اس کے کانوں تک بہت کچھ عیسائیوں کی کتابوں کی بدبو پہنچی ہوگی اور ہندوؤں کا اسلام کے مقابل پر بد زبانی کے ساتھ منہ کھولنا درحقیقت اسی وجہ سے ہوا ہے کہ عیسائیوں کی زہریلی تحریرات کی گندی نالیوں سے بہت کچھ خراب مواد ان کے خون میں بھی مل گئے ہیں اور ان کے افتراؤں کو ان لوگوں نے سچ سمجھ لیا اور اس طرح پر آریہ لوگ بھی عناد میں پختہ ہوگئے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ اس کثرت سے اشاعت اسلامی کتابوں کی کہاں ہوئی۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اب تک کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں! اگر کسی گوشہ نشین ملّا کو یہ خیال بھی آیا کہ کسی رسالہ کا رد لکھیں تو مر مر کر دو تین سو روپیہ اکٹھا کیا اور تشتّت خاطر کے ساتھ کچھ لکھ کر چھ سات سو کاپی کسی مختصر کتاب کی چھپوا دی جس کے چھپنے کی عام طور پر قوم کو بھی خبر نہ ہوئی۔ تو اب کیا اس مختصر اور نہایت حقیر کارروائی کے ساتھ یہ خیال کیا جائے کہ جو کچھ کرنا تھا کیا گیا اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ کس کو معلوم نہیں کہ اس عرصہ میں صرف چند کتابیں مسلمانوں کی طرف سے نکلی ہیں جن کو انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے اسلامی نکتہ چینی کی کتابوں اور دو ورقہ رسائل کو اس کثرت سے شائع کیا ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے ہر ایک مسلمان کے حصہ میں ہزار ہزار کتاب آ سکتی ہے۔ اب نہایت درجہ کا دجّال اور دشمن اسلام وہ شخص ہوگا جو اس بدیہی واقعہ سے انکار کرے۔ پھر جبکہ اشاعت کی تعداد کے رو سے اسلامی مدافعت کو پادریوں کے حملہ سے وہ نسبت بھی نہیں جو ایک ذرہ کو ایک پہاڑ کے ساتھ ہو سکتی ہے تو کیا ابھی تک یہ کہنا بجا ہے کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کرلیا اور جس قدر اشاعت