رسالہ ؔ میں بار بار شائع بھی کیا جس کے پورا کرنے کی طرف اب تک توجہ نہ کی۔ پس اگر بقول پیسہ اخبار یہی بات سچ تھی کہ اب عیسائیوں کے حملوں کے ردّ لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں پہلے اس سے بہت کچھ لکھا گیا ہے اب تو ہمیشہ بوقت ضرورت میموریل بھیجنا ہی قرین مصلحت ہے تو اس انجمن نے کیوں ایسا ناجائز وعدہ کیا تھا۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ یہ لوگ اپنے امور دنیا میں تو ایسے چست اور چالاک ہوں کہ اس چند روزہ دنیا کی ترقیات کو کسی حد تک بند کرنا نہ چاہیں مگر دین کے معاملہ میں ان کی یہ رائے ہو کہ کیسے ہی مخالفوں کی طرف سے حملے ہوں اور کیسے ہی نئے نئے پیرایوں میں نکتہ چینیاں کی جائیں اور کیسے ہی دھوکہ دینے والے اعتراض شائع کئے جائیں مگر ہمارا یہی جواب ہو کہ پہلے بہت کچھ ردّ ہو چکا ہے اب رد لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔ کہاں تک مسلمانوں کی حالت پہنچ گئی اور کس قدر دینی امور میں عقل گھٹ گئی۔ خداتعالیٰ تو قرآن شریف میں یہ فرماوے 3 ۔۱؂ اور یہ فرماوے 33۔۲؂ جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جب تک اسلام پر حملے کرنے والے حملے کرتے رہیں اس طرف سے بھی سلسلہ مدافعت جاری رہنا چاہئیے۔ مگر اس انجمن کے گروہ کی یہ تعلیم ہو کہ اب عیسائیوں کے مقابلہ پر ہرگز قلم نہ اٹھانا چاہئیے اور سزا دلانے کی تجویزیں سوچی جائیں۔ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ ذرہ نہیں سوچتے کہ پادری صاحبوں کے حملے کیا کمیّت کے رو سے اور کیا کیفیت کے رو سے دریائے موّاج کی طرح ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کمیّت یعنی مقدار اشاعت کا یہ حال ہے کہ بعض جگہ ہفتہ وار ایک لاکھ دو ورقہ رسالہ اسلام کے رد میں نکلتا ہے اور بعض جگہ پچاس ہزار۔ اور ابھی سن چکے ہو کہ اب تک کئی کروڑ کتاب اسلام کے رد میں عیسائیوں کی طرف سے شائع ہو چکی ہے۔ اب بتلاؤ کہ مقدار اور تعداد کے لحاظ سے اسلامی کتابیں ان لوگوں کی کتابوں کے مقابل پر کس قدر ہیں۔ کئی کروڑ ہندو اس ملک میں ایسے ہیں کہ