ڈالؔ ۔ اے رحیم خدا تو ایسا کر کہ یہ تحریر جو خون دل سے لکھی گئی سہل انگاری کی نظر سے نہ دیکھی جائے۔ بالآخر اس قدر لکھنا بھی ضروری ہے کہ جو صاحب اس کام کے لئے کسی مؤلّف کو منتخب کرنے کی غرض سے اس بات کے محتاج ہوں کہ ان کی گذشتہ تالیفات کو دیکھیں تو وہ ہر ایک مؤلّف سے جو ان کے خیال میں بگمان غالب یہ کام کر سکتا ہو بطور نمونہ اس کی تالیف کردہ کتابیں طلب کر سکتے ہیں جن سے اس کی علمی طاقت اور طرز تقریر اور طریق استدلال کا پتہ لگ سکتا ہو اور میری دانست میں اس امتحان کے وقت جلسۂ مہوتسو کی وہ متفرق تقریریں جو کئی اہل علم کی طرف سے چھپ چکی ہیں بہت کچھ مدد دے سکتی ہیں۔ کیونکہ اس جلسہ میں ہر ایک اسلامی فاضل نے اپنا سارا زور لگا کر تقریرکی ہے۔ پس بلاشبہ وہ کتاب جو حال میں لاہور میں ممبران جلسہ کی طرف سے چھپی ہے جس میں پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات کے علماء کی تقریریں ہیں اس انتخاب کے لئے اول درجہ کی معیار ہے اور میں صلاح دیتا ہوں کہ اس فیصلہ کے لئے کس کی تحریر زبردست اور مدلل اور بابرکت ہے اس کتاب سے مدد لی جائے۔ کیونکہ اس کشتی گاہ میں جس میں پادری صاحبان اور آریہ صاحبان اور برہمو صاحبان اور سناتن دھرم صاحبان اور دہریہ صاحبان اور علماء اسلام جمع تھے اورہر ایک اپنی پوری طاقت سے کام لے کر تقریر کرتا تھا۔ جو شخص ایسے مقام میں اپنی پُرزور تقریر سے سب پر غالب آیا ہو اس پر اب بھی امید کر سکتے ہیں کہ اس دوسری کُشتی میں بھی غالب آجائے گا۔ ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ ایسا شخص اپنے مباحثات میں زبان عربی میں بھی کچھ تالیفات رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ حسب شرائط متذکرہ بالا ایسے مؤلّف کو جو اس فن مناظرہ کا پیشوا سمجھا جائے عربی میں بھی تالیفات کرنے کی پوری دسترس چاہئیے۔ وجہ یہ کہ جو شخص زبان عربی میں طاقت نہ رکھتا ہو اس کا فہم اور درایت قابل اعتبار نہیں اور نہ وہ کتابوں کو عربی میں تالیف کر کے عام فائدہ پہنچا سکتا ہے اور چونکہ