کہؔ کسی اعتراض کے وقت بغیر اس کے کہ فریق مخالف کی معتبر کتابوں کا حوالہ دے ہرگز اعتراض کے لئے قلم نہ اٹھاوے اور یا یہ کہ قطعاً ایک فریق دوسرے فریق کے مذہب پر حملہ نہ کرے بلکہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کریں۔ اب ظاہر ہے کہ میرے اس بیان اور حال کے بیان میں کچھ تناقض نہیں ہے جیسا کہ ابزرور نے سمجھا ہے۔ کیا میری پہلی تحریر کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ مخالفوں کے حملہ کا جواب نہ دیا جائے؟ فرض کیا کہ ہم دوسروں کے مذہب پر حملہ نہ کریں مگر یہ تو ہمارا فرض ہے کہ غیروں کے حملے سے اپنے مذہب کو بچاویں اور اپنے مذہب کی خوبیاں دکھلاویں۔
غرض ہماری گورنمنٹ عالیہ ہمیں منع نہیں کرتی کہ ہم تہذیب کے ساتھ اپنے اصول مذہب کی حمایت کریں۔ سو اے بزرگو خود دیکھ لو کہ اسلام کس قدر حملوں کے نیچے دبا ہوا ہے۔ پادری صاحبوں کے حملے ہیں۔ فلسفہ جدیدہ کے حملے ہیں۔ آریہ صاحبوں کے حملے ہیں۔ برہم سماج کے حملے ہیں۔ دہریوں طبعیوں کے حملے ہیں۔
اب مجھے بے دھڑک کہنے دو کہ اس وقت سچا مسلمان وہی ہے جو اسلام کی حالت پر کچھ ہمدردی دکھاوے اور بباعث سخت دلی اور لاپروائی یا ناحق کے دور درازکے خیالات سے ہمدردی سے منہ نہ پھیرے۔ اے مردان ہمت شعار وہ انتظام جو اب ہونا چاہئیے۔ مجھے شرم آتی ہے کہ کہاں تک میں بار بار لکھوں۔ اے قوم کے چمکتے ہوئے ستارو! اور معزز بزرگو! خدا آپ لوگوں کے دلوں کو الہام کرے۔ خدا کے لئے اس طرف توجہ کرو۔ اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ میری اس تحریر کے پڑھنے کے وقت فلاں فلاں اعتراض آپ کے دل میں گذرے گا تو میں ان اعتراضوں کو پہلے سے ہی دفع کر دیتا۔ اور اگر میرے پاس وہ الفاظ ہوتے جو آپ صاحبوں کو اس مدعا کی طرف لے آتے تو میں وہی الفاظ استعمال کرتا۔ ہائے افسوس ہم کیا کریں اور کس طرح اس خوفناک تصویر کو دلوں کے آگے رکھ دیں جو ہمیں طاعون سے زیادہ اور ہیضہ سے بڑھ کر رُعب ناک معلوم ہوتی ہے۔ اے خدا تو آپ دلوں میں