اس کا دامن پکڑنا چاہتا ہے کہ تو نے لیکھرام کو تو مارا اب کہاں جاتا ہے اس کے قاتل کا پتہ تو بتلا!!! اور آپ قرآن میں پڑھتا ہے کہ 3۔۱ *
اس قدر شوخی انسان کو نہیں چاہیے اور یہ بے باکی آدم زاد کے لئے مناسب نہیں کیا وہ اس خدا کے وجود میں شک رکھتا ہے جس کی ہستی پر ذرہ ذرہ مہر لگا رہا ہے؟ اگر اس کی نیت میں کجی نہ ہوتی تو عداوت اور بدظنی کے جوش سے ایسی بکواس نہ کرتا یہ اس کا حق تھا کہ میری نسبت بار بار گورنمنٹ کو توجہ دلاتا کہ لیکھرام کے قتل میں مجھے الہامی پیشگوئی کا ایک بہانہ معلوم ہوتا ہے اور دراصل لیکھرام کا قاتل یہی شخص ہے۔ اور اگر خدا سے اس شخص کو پیشگوئی ملتی ہے تو گورنمنٹ اس شخص کو پکڑے اور مواخذہ کرے کہ اگر تو اس دعویٰ میں سچا ہے تو تصدیق دعویٰ کے لئے ہمیں بھی کوئی پیشگوئی دکھلا تا تیری سچائی ہم پر ثابت ہو۔ پھر اگر گورنمنٹ کسی الہامی پیشگوئی کے دکھلانے کے لئے مجھے پکڑتی اورؔ خدا مجھے مردودوں اور مخذولوں کی طرح چھوڑ دیتا اور کوئی پیشگوئی گورنمنٹ کے اطمینان کے لئے ظاہر نہ کرتا تو میں خوشی سے قبول کرلیتا کہ میں جھوٹا ہوں تب گورنمنٹ کا اختیار تھا کہ لیکھرام کا قاتل مجھ کو ہی تصورکر کے مجھے پھانسی دے دے لیکن محمد حسین نے ایسا نہیں کیا اور نہ یہ چاہا کہ کوئی ایسا طریق اختیار کرے جس سے سچائی ظاہر ہو بلکہ میری تائید میں بہت سے نشان خداتعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے اور محض بخل کے رو سے اس شخص نے ان کو قبول نہیں کیا اور ہمیشہ گورنمنٹ کو دھوکہ دینے کے لئے جھوٹی باتیں لکھتا اور کہتا رہا۔ مگر ہماری عادل گورنمنٹ محض باتوں کو ایک خود غرض دشمن کے منہ سے سن نہیں سکتی خدا کا یہ فضل اور احسان ہے کہ ایسی محسن گورنمنٹ کے زیر سایہ ہمیں رکھا۔ اگر ہم کسی اور سلطنت کے زیر سایہ ہوتے تو یہ ظالم طبع مُلّا کب ہماری جان اور آبرو کو چھوڑنا چاہتے۔ اِلَّا ما شاء اللّٰہ انّ ربّی علٰی کلّ شیء قدیر۔
* خدا اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا کہ کیوں ایسا کیا لیکن بندے پوچھے جائیں گے۔