اور محمد حسین کا میری پیشگوئیوں پر یہ جرح کہ کوئی الہامی پیشگوئی اس صورت میں سچی ہو سکتی ہے کہ جب کہ اس کے ساتھ کی تمام اور پیشگوئیاں سچی ثابت ہوئی ہوں۔ یہ فی الواقع سچ ہے۔ مگر محمد حسین کا یہ خیال کہ گویا بعض پیشگوئیاں میری جھوٹی نکلی ہیں یہ سراسر جھوٹ ہے۔میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ میری کوئی پیشگوئی جھوٹی نہیں نکلی آتھم کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس میں صاف ایک شرط تھی اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت بھی توبی توبی کے الہام کی شرط تھی اور میں ثابت کر چکا ہوں کہ ان دونوں شرطوں کے موافق وہ دونوں پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور لیکھرام کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی اس لئے وہ بلا شرط پوری ہوئی۔ احمد بیگ کے سامنے کوئی خوفناک نمونہ نہ تھا اس لئے وہ نہ ڈرا اور شرط سے فائدہ نہ اٹھایا اور پیشگوئی کے موافق جلد فوت ہوگیا مگر اس کے بعد اس کے عزیزوں نے احمد بیگ کی موت کا نمونہ دیکھ لیا اور بہت ڈرے لہٰذا شرط سے فائدہ اٹھا لیا 3۔۱؂ اور اگر کوئی شرط بھی نہ ہوتی اور جس کی نسبت پیشگوئی کی گئی ہے رجوع کرتا اور ڈرتا یا اس کے عزیز جو اصل مخاطب پیشگوئی کے تھے رجوع کرتے اور ڈرتے تب بھی خداتعالیٰ عذاب میں مہلت دے دیتا جس طرح یونس نبی کی امت کو مہلت دی حالانکہ اس کی پیشگوئی میں کوئی شرط نہ تھی۔ خدا نے ابتدا سے وعید کے ساتھ یہ شرط لگاؔ رکھی ہے کہ اگر چاہوں تو وعید کو موقوف کروں اس لئے قرآن میں یہ تو آیا ہے کہ 3 اور یہ نہیں آیا کہ ان اللّٰہ لا یخلف الوعید۔ ماسوا اس کے یہ کہنا کہ سچے نبیوں اور محدثوں کی تمام پیشگوئیاں عوام کی نظر میں صفائی سے پوری ہوتی رہی ہیں بالکل جھوٹ ہے بلکہ بعض وقت ایسا بھی ہوا ہے کہ جب خداتعالیٰ کو کوئی امتحان منظور ہوتا تھا تو کسی نبی کی پیشگوئی عوام پر مشتبہ رکھی جاتی تھی اور وہ لوگ شور مچاتے رہتے تھے بلکہ ایک فتنہ کی صورت ہوکر بعض مرتد ہوتے رہے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا لیکن