مرگیا یا زندہ ہے۔ اور اس غم سے وہ چالیس برس تک روتے رہے لیکن جب تک خداتعالیٰ کا ارادہ نہ ہوا ان پر ہرگز نہ کھولا گیا کہ کیوں غم کرتا ہے تیرا بیٹا تو مصر میں خوش و خرم نائب سلطنت ہے۔ غرض خدا کے بندے ادب کے ساتھ اس کے حضور میں کھڑے ہوتے ہیں اس جگہ ملائک کو بھی دم مارنے کی جگہ نہیں۔
ہماری لیکھرام سے کوئی ذاتی عداوت نہ تھی اور نہ دین اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم ناحق خون کرتے پھریں پھر کونسا باعث تھا کہ ہم اس حرکت بے جا کے مرتکب ہوتے۔ اور ایک پیشگوئی جھوٹی بنانا اور پھر اس کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے قتل کا ارادہ کرنا یہ ایک ایسا طریق ہے کہ بجز ایک شریر اور خبیث انسان کے کوئی اس کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ سو محمد حسین اور اس کی جماعت کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بڑاؔ خدا تعالیٰ کا نشان تھا جو ظہور میں آیا بجز خدا کے یہ کس کی طاقت تھی کہ لیکھرام کی موت کی طرف اشارہ کرے کہ وہ اتنی مدت میں فلاں دن اور فلاں تاریخ واقع ہوگی اور قتل کے ذریعہ سے ہوگی افسوس کہ ان لوگوں نے محض تعصب سے خدا کے نشانوں کی تکذیب کی۔ یہ کس قدر حماقت ہے کہ ہمارے مخالف دلوں میں خیال کرتے ہیں کہ کسی مرید کو بھیج کر لیکھرام کو قتل کرا دیا ہوگا۔ مجھے اس بے وقوفی کے تصور سے ہنسی آتی ہے کہ ایسی بے ہودہ باتوں کو ان کے دل کیونکر قبول کرلیتے ہیں۔ جس مرید کو پیش گوئی کی تصدیق کے لئے قتل کا حکم کیا جائے کیا ایسا شخص پھر مرید رہ سکتا ہے؟ کیا فی الفور اس کے دل میں نہیں گزرے گا کہ یہ شخص جھوٹی پیشگوئیاں بناتا اور پھر ان کو سچی پیشگوئیاں ٹھہرانے کے لئے ایسے منصوبے استعمال کرتا ہے۔ پس میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ محمد حسین نے یہ نہایت ظلم کیا ہے کہ ایک سچی پیشگوئی کو جو خداتعالیٰ کا ایک معجزہ تھا انسان کا منصوبہ ٹھہرایا۔ اگر اس کی نیت میں فساد نہ ہوتا تو وہ اپنی اشاعۃ السنہمیں یہ نہ لکھتا کہ اس شخص کو گورنمنٹ پکڑے تا الہام سے بتلاوے کہ لیکھرام کا قاتل کون ہے۔ گویا محمد حسین خدا تعالیٰ سے ٹھٹھا کرتا اور اس کے فعل کو عبث ٹھہراتا ہے اور جبر کے ساتھ