سےؔ مامور ہو کر آئے تو خداتعالیٰ نے ان کے ضعف اور کمزوری کے لحاظ سے یہی تعلیم ان کو دی کہ شر کا مقابلہ ہرگز نہ کرنا بلکہ ایک طرف طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیردو۔ اور یہ تعلیم اس کمزوری کے زمانہ کے نہایت مناسب حال تھی۔ ایسا ہی مسلمانوں کو وصیّت کی گئی تھی کہ ان پر بھی ایک کمزوری کا زمانہ آئے گا اسی زمانہ کے ہم رنگ جو حضرت مسیح پر آیا تھا اور تاکید کی گئی تھی کہ اس زمانہ میں غیر قوموں سے سخت کلمے سن کر اور ظلم دیکھ کر صبر کریں۔ سو مبارک وہ لوگ جو ان آیات پر عمل کریں اور خدا کے گنہگار نہ بنیں۔ قرآن شریف کو غور سے دیکھیں کہ اُس کی تعلیم اس بارے میں دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک۱ اس ارشاد کے متعلق ہے کہ جب پادری وغیرہ مخالف ہمیں گالیاں دیں اور ستاویں اور طرح طرح کی بدزبانی کی باتیں ہمارے دین اور ہمارے نبی علیہ السلام اور ہمارے چراغ ہدایت قرآن شریف کے حق میں کہیں تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئیے۔ دو۲سرا پہلو اس ارشاد کے متعلق ہے کہ جب ہمارے مخالف ہمارے دین اسلام اور ہمارے مقتدا اور پیشوا محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کی نسبت دھوکہ دینے والے اعتراض شائع کریں اور کوشش کریں کہ تا دلوں کو سچائی سے دور ڈالیں تو اس وقت ہمیں کیا کرنا فرض ہے۔ یہ دونوں حکم اس قسم کے ضروری تھے کہ مسلمانوں کو یاد رکھنے چاہئیں تھے۔ مگر افسوس ہے کہ اب معاملہ برعکس ہے اور جوش میں آنا اور مخالف موذی کی ایذا کے فکر میں لگ جانا غازہ دینداری ٹھہر گیا ہے اور انسانی پالیسی کو خدا کی سکھلائی ہوئی پالیسی پر ترجیح دی جاتی ہے حالانکہ ہمارے دین کی مصلحت اور ہماری خیر اور برکت اسی میں ہے کہ ہم انسانی منصوبوں کی کچھ پرواہ نہ کریں اور خداتعالیٰ کی ہدایتوں پر قدم مار کر اس کی نظر میں سعادت مند بندے ٹھہر جائیں۔ خدا نے ہمیں اس وقت کے لئے کہ جب ہمارے مذہب کی توہین کی جائے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت سخت کلمات کہے جائیں کھلے کھلے طور پر ارشاد فرمایا ہے جو سورہ آل عمران کے آخر میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ 33 ۱ ۔یعنی تم