ہوںؔ ۔ کیونکہ یہ بات درحقیقت سچ ہے کہ جس حالت میں ایک طرف میرا یہ مذہب ہے کہ ہرگز مخالفوں کے ساتھ اپنی طرف سے سختی کی ابتدا نہیں کرنی چاہئیے اور اگر وہ خود کریں تو حتی الوسع صبر کرنا چاہئیے بجز اس صورت کے کہ جب عوام کا جوش دبانے کے لئے مصلحت وقت پر قدم مارنا قرین قیاس ہو اور پھر دوسری طرف عملی کارروائی میری یہ ہو کہ یہ تمام شور قیامت میں نے ہی اٹھایا ہو جس کی وجہ سے ہمارے مخالفوں کی طرف سے ہزارہا کتابیں تالیف ہو کر ملک میں شائع کی گئیں اور ہزارہا قسم کی توہین اور تحقیر ظہور میں آئی یہاں تک کہ قوموں میں باہم سخت تفرقہ اور عناد پیدا ہوا تو اس حالت میں بلاشبہ میں ہر ایک تاوان اور سزا کا مستحق ہوں اور یہ فیصلہ کچھ مشکل نہیں اگر کوئی ایک گھنٹہ کیلئے ہمارے پاس بیٹھ جائے تو جیسا کہ ایک شکل آئینہ میں دکھائی جاتی ہے ویسا ہی یہ تمام واقعات بلاکم و بیش کتابوں کے مقابلہ سے ہم دکھا سکتے ہیں۔
یہ ذکر تو جملۂ معترضہ کی طرح درمیان آگیا اب میں اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ یہ پالیسی ہرگز صحیح نہیں ہے کہ ہم مخالفوں سے کوئی دکھ اٹھا کر کوئی جوش دکھاویں یا اپنی گورنمنٹ کے حضور میں استغاثہ کریں۔ جو لوگ ایسے مذہب کا دم مارتے ہیں جیسا کہ اسلام جس میں یہ تعلیم ہے کہ3۔۱ یعنی تم ایک امت اعتدال پر قائم ہو جو تمام لوگوں کے نفع کے لئے پیدا کی گئی ہو۔ کیا ایسے لوگوں کو زیبا ہے جو بجائے نفع رسانی کے آئے دن مقدمات کرتے رہیں۔ کبھی میموریل بھیجیں اور کبھی فوجداری میں نالش کر دیں اور کبھی اشتعال ظاہر کریں اور صبر کا نمونہ کوئی بھی نہ دکھاویں۔ ذرہ غور کر کے دیکھنا چاہئیے کہ جو لوگ تمام گم گشتہ انسانوں کو رحم کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کے بڑے بڑے حوصلے چاہئیں۔ ان کی ہر ایک حرکت اور ہر ایک ارادہ صبر اور بُردباری کے رنگ سے رنگین ہونا چاہئیے۔ سو جو تعلیم خدا نے ہمیں قرآن شریف میں اس بارے میں دی ہے وہ نہایت صحیح اور اعلیٰ درجہ کی حکمتوں کو اپنے اندر رکھتی ہے جو ہمیں صبر سکھاتی ہے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام رومی سلطنت کے ماتحت خداتعالیٰ