اہلؔ کتاب اور دوسرے مخلوق پرستوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے۔ تب اگر تم صبر کرو گے اور زیادتی سے بچو گے تو تم خدا کے نزدیک اولواالعزم شمار کئے جاؤ گے۔ ایسا ہی اس دوسرے وقت کے لئے کہ جب ہمارے مذہب پر اعتراض کئے جائیں۔ یہ ارشاد فرمایاہے3 3 ۱؂۔۔۔۔ 33 3۔ ۲؂ سورہ آل عمران۔ یعنی جب تو عیسائیوں سے مذہبی بحث کرے تو حکیمانہ طور پر معقول دلائل کے ساتھ کر اور چاہئیے کہ تیرا وعظ پسندیدہ پیرایہ میں ہو۔ اور تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت کریں اور ایسی باتوں کی طرف لوگوں کو بلاویں جن کی سچائی پر عقل اور سلسلہ سماوی گواہی دیتے رہے ہیں اور ایسی باتوں سے منع کریں جن کی سچائی سے عقل اور سلسلہ سماوی انکار کرتے ہیں۔ جو لوگ یہ طریق اختیار کریں اور اس طرح پر بنی نوع کو دینی فائدہ پہنچاتے رہیں وہی ہیں جو نجات پاگئے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ان دونوں پہلوؤں کو ایک ہی جگہ اکٹھے کر کے بیان کر دیا ہے۔ اور وہ آیت یہ ہے۔33۳؂ ۔(اخیر آل عمران) یعنی اے ایمان والو! دشمنوں کی ایذا پر صبر کرو اور باایں ہمہ مقابلہ میں مضبوط رہو اور کام میں لگے رہو اور خدا سے ڈرتے رہو تا تم نجات پا جاؤ۔ سو اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی ہمیں یہی ہدایت ہے کہ ہم جاہلوں کی توہین اور تحقیر اور بدزبانیوں اور گالیوں سے اعراض کریں اور ان تدبیروں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں کہ کیونکر ہم بھی ان کو سزا دلاویں۔* بدی کے مقابل پر بدی کا ارادہ کرنا میری جماعت نے جو زٹلی کی بدگوئی پرمیموریل بھیجا ہے وہ سزا دلانے کی غرض سے نہیں بلکہ اس غرض سے کہ یہ لوگ محض دروغ گوئی کے طور پر سخت گوئی کا الزام لگاتے تھے لہٰذا گورنمنٹ اور پبلک کو دکھلایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی نرمی اور ادب اس قسم کا ہے۔ اس سے زیادہ اس میموریل میں کوئی درخواست سزا وغیرہ کی نہیں ہے۔ منہ