ماسوا اس کے اگر محمد حسین کی دانست میں میرے الہامات میرے ہی افترا تھے تو اس کو چاہیے تھا کہ بجائے ایسی بے ہودہ باتوں کے یہ مضمون لکھتا کہ گورنمنٹ کو یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ یہ شخص ملہم من اللہ ہونے کے دعوے میں سچا ہے یا جھوٹا۔ اور طریق آزمائش یہ ہے کہ گورنمنٹ عام طور پر اس سے کوئی پیشگوئی مانگے پھر اگر وہ پیشگوئی اپنے وقت پر پوری نہ ہو تو گورنمنٹ یقین کرلے کہ یہ شخص جھوٹا اور مفتری ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ لیکھرام کا قاتل بھی یہی ہوگا۔ کیونکہ ایک جھوٹا شخص جب کسی اپنی پیشگوئی میں دیکھتا ہے کہ میرا جھوٹ کھل جائے گا تو بے شک وہ ناجائز طریقوں کی طرف توجہ کرتا ہے اور اس کی خبیث ذات سے کچھ بعید نہیں ہوتا کہ ایسی ایسی ناپاک حرکات اس سے صادر ہوں۔ اگر اس تقریر کے ساتھ گورنمنٹ کو لیکھرام کے مقدمہ میں میری نسبت توجہ دلاتا تو کچھ تعجب نہ تھا کہ یہ تقریر قبول کے لائق ٹھہرتی اور انصاف پسند لوگ بھی اس کو پسند کرتے اور مجھے بھی ایسے مواخذہ میں کچھ عذر نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور میری پیشگوئیاں میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہیں تو بے شک میری بریت کے لئے اس قدر خداتعالیٰ کی مدد چاہیے کہ وہ کسی الہامی پیش خبری سے جو سچی نکلے گورنمنٹ کو اس کے مطالبہ کے وقت مطمئن کردیوے اور وہ سمجھ جائے کہ درحقیقت یہ کاروبار خداتعالیٰ کی طرف سے ہے نہ انسان کی طرف سے۔
لیکن اس بات پر زور دینا کہ میں لیکھرام کے قاتل کا نام بیان کروں صحیح نہیں ہے خداتعالیٰ اپنے مصالح میں کسی کا محکوم نہیں ہو سکتا۔ اگر اس نے ایک بات کو مخفی کرنا چاہا ہے تو ہم اس پر زور نہیں ڈال سکتے کہ وہ ضرور اس بات کو ظاہر کرے۔ جو شخص خدا تعالیٰ پر ایسی حکومت چلانا چاہتا ہے یا چلانے کے لئے درخواست کرتا ہے تو وہ عبودیت کے آداب سے بالکل بے نصیب ہے۔ خدا علم غیب اپنی مرضی سے ظاہر کرتا ہے انسان کی مرضی سے ظاہر نہیں کرتا دیکھو حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس پتہ کے لگانے کی کس قدر ضرورت تھی کہ ان کا بیٹا