فوائدؔ میں اُس سے الگ ہے اور وہ لوگ نہایت ظالم اور شریرالنفس ہیں جو ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے ہی سخت گوئی کی بنیاد ڈالی۔ ہم اس کا بجز اس کے کیا جواب دیں کہ لَعْنَتُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔ جو شخص انصاف کے ارادہ سے اس امر میں رائے ظاہر کرنا چاہتا ہے اس پر اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ ہماری اوّل کتاب جو دنیا میں شائع ہوئی براہین احمدیہ ہے جس سے پہلے پادری عماد الدین کی گندی کتابیں اور اندرمن مراد آبادی کی نہایت سخت اور پُرفحش تحریریں اور کنھیّا لعل الکھ دھاری کی فتنہ انگیز تالیفات اور دیانند کی وہ ستیارتھ پرکاش جو بدگوئی اور گالیوں اور توہین سے پُر ہے ملک میں شائع ہو چکی تھیں اور ہمارے اس ملک کے مسلمان ان کتابوں سے اس طرح افروختہ تھے جس طرح کہ لوہا ایک مدت تک آگ میں رکھنے سے آگ ہی بن جاتا ہے مگر ہم نے براہین احمدیہ میں مباحثہ کی ایک معقولی طرز ڈال کر ان جوشوں کو فرو کیا اور ان جذبات کو اور طرف کھینچ کر لے آئے۔ جیسا کہ ایک حاذق طبیب اعضاء رئیسہ سے رخ ایک مادہ کا پھیر کر اطراف کی طرف اس کو جھکا دیتا ہے۔ اور باوجود اس کے کہ براہین احمدیہ ان عیسائیوں اور آریوں کے جواب میں لکھی گئی تھی جنہوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توہین اور گالیوں کو انتہا تک پہنچا دیا تھا مگر تب بھی کتاب مذکور نہایت ملائمت اور ادب سے لکھی گئی اور بجز ان واجبی حملوں کے جو اپنے محل پر چسپاں تھے جن کا ذکر ہر ایک مباحث کے لئے بغرض اِسکات خصم ضروری ہوتا ہے اور کوئی درشت کلمہ اس کتاب میں نہیں ہے اور اگر بالفرض ہوتا بھی تو کوئی منصف جس نے عماد الدین اور اندرمن اور کنھیّا لعل کی کتابیں اور دیانند سورستی کی ستیارتھ پرکاش پڑھی ہو ہم کو ایک ذرہ الزام نہیں دے سکتا ہے۔ کیونکہ ان کتابوں کے مقابل پر جو کچھ بعض جگہ کسی قدر درشتی عمل میں آئی اس کی ان کتابوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور توہین اور تحقیر کے انبار کی طرف ایسی ہی نسبت تھی جیسا کہ ایک ذرہ کو پہاڑ کی طرف ہو سکتی ہے۔ ماسوا اس کے جو کچھ ہماری کتابوں میں بطور مدافعت لکھا گیا وہ دراصل اُن شخصوں کا قصور