یقیناًؔ سمجھو کہ گمراہوں کی حقیقی اور واقعی خیرخواہی اسی میں ہے کہ ہم جھوٹے اور ذلیل اعتراضات کی غلطیوں پر اُن کو مطلع کریں اور اُن کو دکھلاویں کہ اسلام کا چہرہ کیسا نورانی کیسا مبارک اور کیسا ہر ایک داغ سے پاک ہے۔ ہمارا کام جو ہمیں ضرور ہی کرنا چاہئیے وہ یہی ہے کہ یہ دجل اور افترا جس کے ذریعہ سے قوموں کو اسلام کی نسبت بدظن کیا گیا ہے اُس کو جڑ سے اکھاڑدیں۔ یہ کام سب کاموں پر مقدم ہے جس میں اگر ہم غفلت کریں تو خدا اور رسول کے گنہگار ہوں گے۔ سچی ہمدردی اسلام کی اور سچی محبت رسول کریم کی اسی میں ہے کہ ہم ان افتراؤں سے اپنے مولیٰ و سیّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا دامن پاک ثابت کر کے دکھلائیں اور وسواسی دلوں کو یہ ایک نیا موقعہ وسوسہ کا نہ دیں کہ گویا ہم تحکّم سے حملہ کرنے والوں کو روکنا چاہتے ہیں اور جواب لکھنے سے کنارہ کش ہیں۔ ہر ایک شخص اپنی رائے اور خیال کی پیروی کرتا ہے۔ لیکن خداتعالیٰ نے ہمارے دل کو اسی امر کے لئے کھولا ہے کہ اس وقت اور اس زمانہ میں اسلام کی حقیقی تائید اسی میں ہے کہ ہم اُس تخم بدنامی کو جو بویا گیا ہے اور اُن اعتراضات کو جو یورپ اور ایشیا میں پھیلائے گئے ہیں جڑ سے اکھاڑ کر اسلامی خوبیوں کے انوار اور برکات اس قدر غیر قوموں کودکھلاویں کہ ان کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں اور اُن کے دل اُن مفتریوں سے بے زار ہو جائیں جنہوں نے دھوکہ دے کر ایسے مزخرفات شائع کئے ہیں اور ہمیں ان لوگوں کے خیالات پر نہایت افسوس ہے جو باوجودیکہ وہ دیکھتے ہیں کہ کس قدر زہریلے اعتراضات پھیلائے جاتے اور عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ ان اعتراضات کے ردّ کرنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں صرف مقدمات اٹھانا اور گورنمنٹ میں میموریل بھیجنا کافی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ ہر ایک مظلوم کا انصاف دینے کے لئے طیّار ہے لیکن ہمیں آنکھ کھول کر یہ بھی دیکھنا چاہئیے کہ وہ ضرر جو قوم کو مخالفوں کے اعتراضات سے پہنچ رہا ہے وہ صرف یہی نہیں کہ اُن کے سخت الفاظ سے بہت سے دل زخمی ہیں بلکہ ایک خطرناک ضرر تو یہ ہے کہ اکثر جاہل اور نادان اُن اعتراضات کو صحیح سمجھ کر اسلام سے