حلاوتؔ بیان دیکھنے کی طرف مائل ہیں۔ پس جب تک کہ کتاب میں ہر ایک طبیعت کی ضیافت نہ ہو تب تک ایسی کتاب مقبول عوام و خواص نہیں ہو سکتی اور اس سے عام فائدہ کی امید رکھنا طمع خام ہے۔ میں باربار کہتا ہوں کہ اب ان زہریلی ہواؤں کے چلنے کے وقت جو تدبیر کرنی چاہئیے۔ وہ میرے نزدیک یہ ہے کہ صرف یہی بڑا کام نہ سمجھیں کہ کوئی مولوی صاحب چند ورق امہات مؤمنین کے ردّ میں لکھ کر شائع کر دیں بلکہ اس وقت ایک محیط نظر سے ان تمام حملوں کو دیکھنا چاہئیے جو ابتدا اس زمانہ سے جبکہ اس ملک میں پادری صاحبوں نے اپنی کتابیں اور رسائل شائع کئے اس وقت تک کہ رسالہ اُمّہات المؤمنین شائع ہوا۔ آیا ان اعتراضات کی کہاں تک تعداد پہنچی ہے اور ان اعتراضات کے ساتھ وہ اعتراضات بھی شامل کر لئے جائیں جو فلسفی رنگ میں کئے گئے ہیں یا ڈاکٹری تحقیقاتوں کے لحاظ سے بعض شتاب کار نادانوں نے پیش کر دئیے ہیں اور جب ایسی فہرست جس میں مجموعہ ان اعتراضات کا ہو طیّار ہو جائے تو پھر ان تمام اعتراضات کا جواب نرمی اور آہستگی سے بکمال متانت اور معقولیت تحریر کرنا چاہئیے۔ بے شک یہ کام بہت ہی بڑا ہے جس میں پادری صاحبوں کی شصت سالہ کارروائی کوخاک میں ملانا اور نابود کر دینا ہے۔ لیکن اہل ہمّت کو خدا مدد دیتا ہے اور خداتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اس کے دین کی مدد کرے وہ خود اس کا مددگار ہوتا ہے اور اس کی عمر بھی زیادہ کر دیتا ہے۔ اے بزرگو! یہ وہ زمانہ ہے جس میں وہی دین اور دینوں پر غالب ہوگا جو اپنی ذاتی قوت سے اپنی عظمت دکھاوے۔ پس جیسا کہ ہماے مخالفوں نے ہزاروں اعتراض کر کے یہ ارادہ کیا ہے کہ اسلام کے نورانی اور خوبصورت چہرہ کو بدشکل اور مکروہ ظاہر کریں ایسا ہی ہماری تمام کوششیں اسی کام کے لئے ہونی چاہئیں کہ اس پاک دین کی کمال درجہ کی خوبصورتی اور بے عیب اور معصوم ہونا بپایۂ ثبوت پہنچا ویں۔