نفرت ؔ پیدا کرتے جاتے ہیں۔ سو جس ضرر کا لوگوں کے ایمان پر اثر ہے اور جو ضرر فی الواقع اعظم اور اکبر ہے وہی اس قابل ہے کہ سب سے پہلے اس کا تدارک کیا جائے ایسا نہ ہو کہ ہم ہمیشہ سزا دلانے کی فکروں میں ہی لگے رہیں اور ان شیطانی وساوس سے نادان لوگ ہلاک ہو جائیں۔ خداتعالیٰ جو اپنے دین اور اپنے رسول کے لئے ہم سے زیادہ غیرت رکھتا ہے وہ ہمیں ردّ لکھنے کی جابجا ترغیب دے کر بدزبانی کے مقابل پر یہ حکم فرماتا ہے کہ ’’جب تم اہل کتاب اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو اور ضرور ہے کہ تم آخری زمانہ میں بہت سے دلآزار کلمات سنو گے پس اگر تم اس وقت صبر کرو گے تو خدا کے نزدیک اولواالعزم سمجھے جاؤ گے‘‘۔ دیکھو یہ کیسی نصیحت ہے اور یہ خاص اسی زمانہ کے لئے ہے کیونکہ ایسا موقعہ اور اس درجہ کی تحقیر اور توہین اور گالیاں سننے کا نظارہ اس سے پہلے کبھی مسلمانوں کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ یہی زمانہ ہے جس میں کروڑ ہا توہین اور تحقیر کی کتابیں تالیف ہوئیں۔ یہی زمانہ ہے جس میں ہزارہا الزام محض افترا کے طور پر ہمارے پیارے نبی ہمارے سیّد و مولیٰ ہمارے ہادی و مقتدا جناب حضرت محمد مصطفٰی احمد مجتبیٰ افضل الرسل خیرالوریٰ صلّی اللہ علیہ وسلم پر لگائے گئے سو میں حلفاًکہہ سکتا ہوں کہ قرآن شریف میں یعنی سورہ آل عمران میں یہ حکم ہمیں فرمایا گیا ہے کہ ’’تم آخری زمانہ میں نا منصف پادریوں اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو گے اور طرح طرح کے دلآزار کلمات سے ستائے جاؤ گے اور ایسے وقت میں خداتعالیٰ کے نزدیک صبر کرنا بہتر ہوگا‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار صبر کے لئے تاکید کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب میرے پر ایک جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا پادریوں کی طرف سے قائم کیا گیا تو باوجودیکہ کپتان ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع نے بخوبی سمجھ لیا کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے مگر جب صاحب موصوف نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا تم ان پر نالش کرنا چاہتے ہو تو میں نے اسی وقت انشراح صدر سے کہہ دیا (جس کو صاحب موصوف نے اسی کیفیت کے ساتھ لکھ لیا) کہ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ نالش کروں۔ اس کی کیا وجہ تھی۔ یہی تو تھی کہ خداتعالیٰ صاف قرآن شریف