کہہؔ سکتے کہ ایسی درخواستوں میں پوری کامیابی بھی ہو۔ کیونکہ دوسرے فریق کے منہ میں بھی زبان ہے اور وہ بھی جب دیکھیں گے کہ یہ کارروائی صرف ایک کے متعلق نہیں بلکہ عیسائیت کے تمام مشن پر حملہ ہے تو بالمقابل زور لگانے میں فرق نہیں کریں گے اور اس صورت میں معلوم نہیں کہ آخری نتیجہ کیا ہوگا۔ اور شاید سُبکی اور خفّت اٹھانی پڑے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ میموریل بھیجنا ایک مقدمہ اٹھانا ہے اور ہر ایک مقدمہ کے دو۲ پہلو ہوتے ہیں۔ اب کیا معلوم ہے کہ کس پہلو پر انجام ہو لیکن یہ یقینی امر ہے کہ اسلام نہایت پاک اصول رکھتا ہے اور ہر ایک حملہ جو مخالفوں کی طرف سے اس پر ہوتا ہے اگر اس کا غور اور توجّہ سے جواب دیا جائے تو صرف اسی قدر نہ ہوگا کہ ہم الزام کو دور کریں گے بلکہ بجائے الزام کے یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ جس مقام کو نادان مخالف نے جائے اعتراض سمجھا ہے وہی ایک ایسامقام ہے جس کے نیچے بہت سے معارف اور حکمت کی باتیں بھری پڑی ہیں اور اس طرح پر علوم دین دن بدن ترقی پذیر ہوں گے اور ہزاروں باریک راز علم دین کے کھلیں گے۔
یاد رکھنا چاہئیے کہ تمام مسلمانوں پر اب یہ فرض ہے کہ اس طوفان ضلالت کا جلد تر فکر کریں مگر صرف اس طریق سے کہ اس کام کے لئے ایک شخص کو منتخب کر کے نرمی اور تہذیب کے ساتھ تمام عیسائی حملوں کا ردّ لکھاویں اور ایسی کتاب میں نہ صرف ردّ ہونا چاہئیے بلکہ اسلامی تعلیم کی عمدگی اور خوبی اور فضیلت بھی ایسے آسان فہم طریق سے مندرج ہونی چاہئیے جس سے ہر ایک طبیعت اور استعداد کا آدمی پوری تسلّی پا سکے۔ ایسے مؤلف کو ردّ کے وقت تصوّر کرلینا چاہئیے کہ گویا اس کے سامنے ایک فوج ایسے لوگوں کی موجود ہے جس میں سے بعض منقولات کی صحت سند مطالبہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بعض فقرات متنازع فیہا کے لفظی بحثوں کے چھیڑنے کے لئے مستعد ہیں اور بعض مفردات کے معنوں پر جھگڑنے کے لئے کھڑے ہیں اور بعض منقولی رنگ میں قطعی اور یقینی دلائل کا مطالبہ کر رہے ہیں اور بعض قانون قدرت کے نظائر مانگنے کے لئے بھوکے پیاسے ہیں اور بعض تحریرات کی روحانی برکت اور