ایکؔ نالی کو صاف کر کے پھر یہ امید رکھیں کہ فقط ہمارا اتنا ہی کام ہوا کی اصلاح کے لئے کافی ہوگا۔ نہیں بلکہ جب تک ہم شہر کی تمام نالیوں کو صاف نہ کریں اور تمام وہ گند جو طرح طرح کے اعتراضات سے مختلف طبائع میں بھرا ہوا ہے دور نہ کردیں اور پھر وہ دلائل اور اقوال موجّہ شائع نہ کریں جو اس بدبو کو بکلی دفع کر کے بجائے اس کے اسلامی پاک تعلیم کی خوشبو پھیلاویں تب تک گویا ہم نے انسانوں کی جان بچانے کے لئے کوئی بھی کام نہیں کیا۔ اس بات کا بیان کرنا ضروری نہیں کہ پادریوں کی تعلیم سے انتہا تک ضرر پہنچ چکا ہے اور ملک میں انہوں نے ایک ایسا زہریلا تخم بو دیا ہے جس سے اس ملک کی روحانی زندگی نہایت خطرناک ہے۔ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ فساد اکثر طبائع کو خراب کرتا جاتا اور اسلام سے دور ڈالتا جاتا ہے۔ یہ دو قسم کا فساد ہے (۱) ایک تو وہ جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے یعنی پادریوں کی زہریلی تحریرات کا فساد (۲) دوسرا وہ فساد جو علوم جدیدہ طبعیّہ وغیرہ کے پھیلنے سے پیدا ہوا ہے جس سے بہتیرے نو تعلیم یافتہ دہریوں اور ملحدوں کے رنگ میں نظر آتے ہیں۔ نہ عقائد کی پرواہ رکھتے ہیں اور نہ اعمال کی۔ اور بے قیدی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ اب حقیقی ہمدردی قوم اور بنی نوع کی یہ نہیں ہے کہ دو چار باتوں کا جواب لکھ کر خوش ہو جائیں۔ اس جگہ یاد رکھنا چاہئیے کہ اس ضروری کام کو چھوڑ کر یہ دوسری کارروائی ہرگز فائدہ نہ دے گی کہ مشتعل ہوکر گورنمنٹ عالیہ میں میموریل بھیجا جائے۔ بلکہ ہم اس صورت میں اپنے وقت اور محنت کو دوسرے کاموں میں خرچ کر کے حقیقی علاج اور تدبیر کی راہ کے سخت ہارج ہوں گے اگر اس رائے میں میرے ساتھ ایک بھی انسان نہ ہو اور تمام لوگ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ان زہریلی ہواؤں کی اصلاح کا حقیقی علاج یہی ہے کہ میموریل پر میموریل بھیجا جائے اور ازالۂ اوہام باطلہ کی طرف توجہ نہ کی جائے تب بھی میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ تمام لوگ غلطی پر ہیں اور ایسی کارروائیاں اس حقیقی علاج کی ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتیں جس سے وہ تمام وساوس دور ہو جائیں جو صدہا دلوں میں متمکن ہیں بلکہ یہ تو تحکم سے منہ بند کرنا ہوگا۔ اور یہ بھی نہیں