’’ آپ کی جگہ یہ ہے مجھے شرمندہ نہ کیجئے‘‘۔ پس یہ جائے عبرت ہے کہ محمد حسین نے شیخی جتانے کے لئے اپنے منہ سے کرسی مانگی اور پھر بجائے کرسی کے جھڑکیاں ملیں۔ کسی نے سچ کہا ہے بن مانگے موتی ملیں مانگے ملے نہ بھیک یعنی بغیر مانگنے کے موتی مل جاتے ہیں مگر مانگنے سے گدائی کا ٹکڑہ بھی نہیں ملتا۔ پھر تعجب ہے کہ اس شخص نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے روبروہی لیکھرام کے قتل کا قصہ شروعؔ کر دیا۔ اور صاحب موصوف کو میری نسبت کہا کہ میں نے اپنے اشاعۃ السنہ میں یہ لکھا ہے کہ اس شخص سے لیکھرام کے قاتل کا پتہ پوچھنا چاہیے کہ الہام سے بتاوے کہ کون قاتل ہے اور مدعا اس متفنّی بٹالوی کا یہ تھا کہ لیکھرام کا قاتل بھی یہی شخص ہے۔ اب ناظرین سوچیں! کہ اس شیخ بٹالوی کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ میری عداوت کے لئے کیونکر دین اور دیانت کو چھوڑتا جاتا ہے۔ جب آریوں نے لیکھرام کے بارے میں شور مچایا تو ان کے ساتھ جا ملا اور اب جب پادریوں نے شور مچایا تو ان کے ساتھ جاملا۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ اسلام کا مخالف کیا کرتا پھرتا ہے۔ لیکھرام کے قتل کو بار بار یاد دلانا یہ اس کی شرارت ہے کہ تا یہ بہتان میرے پر لگاوے۔ اور اس طرح پر خدا کی پیشگوئی کو بے عزت کر کے معدوم کردیوے۔ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ لیکھرام کی نسبت میں نے ازخود پیشگوئی نہیں کی بلکہ میرے خدا نے اس کی نسبت اس وقت مجھے خبر دی تھی جبکہ خود لیکھرام نے نہایت شوخی سے موت کی پیشگوئی کو مانگا تھا پھر جبکہ لیکھرام کو مارنا بطور عذاب کے تھا تو کیونکر خداتعالیٰ قاتل کا نام بتاوے اور اپنے انتظام کو آپ خراب کرے ہاں محمد حسین اگر ہندوؤں کا درحقیقت خیرخواہ ہے تو قاتل کا نام معلوم کرنے کے لئے ایک تدبیر کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ لیکھرام کے قاتل کا ان لوگوں کے ذریعہ سے پتہ دریافت کرے جو اس کے گروہ میں ملہم کہلاتے اور مجھے کافر جانتے ہیں۔