میرا دامن پاک ثابت ہوا۔ پھر اب ارادہ قتل کا مقدمہ میرے پر بنایا گیا سو اس میں بھی بہت تحقیق کے بعد میں بری کیا گیا۔ یہ دونوں مخالفوں کے حملے میرے لئے مضر نہیں ہوئے بلکہ حکّام وقت نے دو دفعہ میری حالت کو آزما لیا اور دشمنوں کے منصوبے کی حقیقت کھل گئی۔ اور اگرچہ محمد حسین نے اپنی دانست میں پادریوں کا رفیق بن کر میرے پھانسی دلانے کے لئے بڑے زور شور سے اظہار دیا اور جوؔ کچھ اس کی فطرت میں تھا اس روز اس نے پورا کر کے دکھا دیا۔ لیکن اس تمام بہتان کا اگرچہ کچھ نتیجہ ہوا تو بس یہی کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے اپنے چٹھۂ انگریزی میں لکھ دیا کہ یہ شخص یعنی محمد حسین مرزا صاحب کا سخت دشمن ہے اور اس کے تمام بیان کو فضول سمجھ کر فیصلہ میں اس کے اظہار کا ایک ذرہ ذکر نہیں کیا اور اس کے بیان کو نہایت ہی بے عزتی کی نگاہ سے دیکھا۔ پس اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس حالت میں محمد حسین کا بیان ایسا فضول اور ذلیل اور پایۂ اعتبار سے ساقط سمجھا گیا تو خداتعالیٰ کی طرف سے کیا حکمت تھی کہ یہ پادریوں کی طرف سے عدالت میں گواہی دینے آیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بظاہر اس میں دو حکمتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اوّل یہ کہ تا لوگوں کو اس شخص کے تقویٰ اور دینداری اور اسلام کا حال معلوم ہو کہ ایسے جھوٹے اور قابل شرم مقدمہ میں جو عیسائیوں نے محض مذہبی جوش سے اٹھایا تھا اس نے اپنے تئیں گواہ بنایا اور عمدًا محض شرارت سے میرے پھانسی دلانے کی تدبیر سوچی۔ دوسری یہ حکمت تھی کہ تا یہ شخص عدالت میں جائے اور کرسی ملنے کا سوال کرے اور عدالت سے اس کو جھڑکیاں ملیں اور اس طرح پر صادق کی ذلّت ڈھونڈنے کی سزا میں اپنی ذلّت دیکھے۔
بار بار افسوس آتا ہے کہ اس شخص کو کرسی مانگنے کی کیوں خواہش پیدا ہوئی۔ اچھے آدمی اگر کسی مجلس میں جاتے ہیں تو بالطبع صدر نشینی کو مکروہ جانتے ہیں اور انکسار کے ساتھ ایک معمولی جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں تب صاحب خانہ کی جب ان پر نظر پڑتی ہے تو وہ شفقت سے اٹھتا ہے اور ان کا ہاتھ پکڑتا ہے اور تواضع سے ان کو صدر کے مقام پر کھینچ لیتا ہے۔کہ