ہو۔ اس کے اور بھی نظائر پائے جاتے ہیں۔ اور یہ بات سچ ہے کہ اس دنیا میں واقعات صحیحہ کے لئے نظیریں ہوتی ہیں مگر باطل کے لئے کوئی نظیر نہیں ہوتی۔ اسی اصول محکم سے ہم عیسائیوں کے عقیدہ کو رد کرتے ہیں۔ خدا نے دنیا میں جو کام کیا وہ اس کی عادت اور سنت قدیم میں ضرور داخل ہونا چاہئیے۔ سو اگر خدا نے دنیا میں ملعون اور مصلوب ہونے کے لئے اپنا بیٹا بھیجا تو ضرور یہ بھی اس کی عادت ہوگی کہ کبھی بیٹا بھی بھیج دیتا ہے۔ پس ثابت کرنا چاہئیے کہ پہلے اس سے اس کے کتنے بیٹے اس کام کے لئے آئے۔ کیونکہ اگر اب بیٹا بھیجنے کی ضرورت پڑی ہے تو پہلے بھی اس ازلی خالق کو کسی نہ کسی زمانہ میں ضرور پڑی ہوگی۔ غرض خداتعالیٰ کے سارے کام سنت اور عادت کے دائرہ میں گھوم رہے ہیں اور جو امر عادت اللہ سے باہر بیان کیا جائے تو عقل ایسے عقیدہ کو دور سے دھکے دیتی ہے۔
باقی رہی کشفی اور الہامی گواہی سو کشف اور الہام جو خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ یہی بتلا رہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت فوت ہوگئے ہیںؔ اور ان کا دوبارہ دنیا میں آنا یہی تھا کہ ایک خدا کا بندہ ان کی قوت اور طبع میں ہوکر ظاہر ہوگیا۔ اور میرے بیان کے صدق پر اللہ جلّ شانہٗ نے کئی طرح کے نشان ظاہر فرمائے اورچاند سورج کو میری تصدیق کے لئے خسوف کسوف کی حالت میں رمضان میں جمع کیا۔ اور مخالفوں سے کشتی کی طرح مقابلہ کرا کے آخر ہر ایک میدان میں اعجازی طور پر مجھے فتح دی۔ اور دوسرے بہت سے نشان دکھلائے جن کی تفصیل رسالہ سراج منیر اور دوسرے رسالوں میں درج ہے۔ لیکن باوجود نصوص قرآنیہ و حدیثیہ و شواہد عقلیہ و آیات سماویہ پھر بھی ظالم طبع مخالف اپنے ظلم سے باز نہ آئے۔ اور طرح طرح کے افتراؤں سے مدد لے کر محض ظلم کے رو سے تکذیب کر رہے ہیں۔ لہٰذا اب مجھے اتمام حجت کے لئے ایک اور تجویز خیال میں آئی ہے اور امید رکھتا ہوں کہ خداتعالیٰ اس میں برکت ڈال دے اور یہ تفرقہ جس نے ہزارہا