مسلمانوں میں سخت عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے رو باصلاح ہو جائے۔ اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء اور مردان با صفا کی خدمت میں اللہ جلّ شانہ‘ کی قسم دے کر التجا کی جائے کہ وہ میرے بارے میں اور میرے دعوے کے بارے میں دعا اور تضرع اور استخارہ سے جناب الٰہی میں توجہ کریں۔ پھر اگر ان کے الہامات اور کشوف اور رؤیا صادقہ سے جو حلفًا شائع کریں کثرت اس طرف نکلے کہ گویا یہ عاجز کذّاب اور مفتری ہے تو بیشک تمام لوگ مجھے مردود اور مخذول اورملعون اور مفتری اور کذّاب خیال کرلیں اور جس قدر چاہیں لعنتیں بھیجیں ان کو کچھ بھی گناہ نہیں ہوگا۔ اور اس صورت میں ہر ایک ایماندار کو لازم ہوگا کہ مجھ سے پرہیز کرے۔ اور اس تجویز سے بہت آسانی کے ساتھ مجھ پر اور میری جماعت پر وبال آجائے گا لیکن اگر کشوف اور الہامات اور رؤیا صادقہ کی کثرت اس طرف ہو کہ یہ عاجز منجانب اللہ اور اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو پھر ہر ایک خدا ترس پر لازم ہوگا کہ میری پیروی کرے۔ اور تکفیر اور تکذیب سے باز آوے۔ ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص کو آخر ایک دن مرناؔ ہے پس اگر حق کے قبول کرنے کے لئے اس دنیا میں کوئی ذِلّت بھی پیش آئے تو وہ آخرت کی ذلت سے بہتر ہے۔ لہٰذا میں تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء پنجاب اور ہندوستان کو اللہ جلّ شانہ‘ کی قسم دیتا ہوں جس کے نام پر گردن رکھ دینا سچے دین داروں کا کام ہے کہ وہ میرے بارے میں جناب الٰہی میں کم سے کم اکیس۲۱ روز توجہ کریں یعنی اس صورت میں کہ اکیس۲۱ روز سے پہلے کچھ معلوم نہ ہو سکے اور خداسے انکشاف اس حقیقت کا چاہیں کہ میں کون ہوں؟ آیا کذّاب ہوں یا منجانب اللہ۔ میں بار بار بزرگان دین کی خدمت میں اللہ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ ضرور اکیس ۲۱ روز تک اگر اس سے